Friday, September 26, 2025

آغا خان اسکول نظام آباد کے طلبہ قدیم کی اساتذہ سے ملاقات یادگار تہنیتی تقریب۔رپورتاژ پروفیسر محمد اسلم فاروقی

 

آغا خان اسکول نظام آباد کے طلبہ قدیم کی اساتذہ سے ملاقات یادگار تہنیتی تقریب

چالیس سال کے عرصے بعد بھی طلبہ قدیم اپنے معمار اساتذہ کو نہیں بھولے۔

رپورتاژ: پروفیسر محمد اسلم فاروقی

پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد










             علم روشنی ہے جس سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں۔ یہی وجہہ ہے کہ قرآن کی پہلی وحی کی پہلی آیت کی ابتدا اقرا یعنی پڑھو سے ہوئی ہے۔ اور احادیث میں بھی علم کے حاصل کرنے کو فرض اور گود سے گور تک علم کا سلسلہ جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تیز رفتار ترقی کرتی دنیا میں روزآنہ کی بنیاد پر ہورہی تبدیلیوں سے واقفیت رکھنا بھی علم کا ہی حصہ ہے۔ انسان اپنے اطراف کے ماحول سے باخبر رہے تو وہ اپنی زندگی بہتر طور پر گزار سکتا ہے اور اپنے افراد خاندان اور معاشرے کے لیے بھی ایک اچھا فرد بن سکتا ہے۔ ایک بچے کے لیے ماں کی گود پہلی درسگاہ ہوتی ہے جہاں وہ ماں کے دودھ کے ساتھ علم و تہذیب کے ابتدائی باب سیکھتا ہے۔ گھر بچے کو ابتدائی معلومات فراہم کرتا ہے۔ بچہ جب چار یا پانچ سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اسے کسی درسگاہ میں داخل کرادیا جاتا ہے جہاں وہ اساتذہ ساتھیوں اور کتابوں کے ذریعے علم کے ابتدائی مدارج سیکھتا ہے۔ کسی بھی بچے کی زندگی میں اس کا پہلا اسکول اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیوں کہ یہی اسکول اس کی تعلیم کی بنیاد رکھتا ہے جس پر چل کر ایک بچہ اپنے آگے کے علمی مدارج طے کرتا ہے اور پھر اپنی صلاحیت اور اساتذہ کی تربیت سے وہ ترقی کی راہیں طے کرتا ہوا ملک و بیرون ملک اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتا ہے۔ شہر نظام آباد شمالی تلنگانہ کا اہم ضلع ہے۔ نظام دور حکومت سے ہی اس شہر کو تہذیبی اور تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ نظام آباد سے قریب شکر نگر واقع ہے جہاں نظام دور حکومت میں ایشیا کی مشہور شوگر مل نظام شوگر فیکٹری قائم تھی۔ نظام ساگر ذخیرہ آب بھی نظام آباد سے قریب ہے۔ اورنگ زیب جب اپنی افواج کے ساتھ جنوب کے سفر پر تھا تو اس نے بودھن کے علاقے میں شب بسری کی تھی۔ جب اس کی تہجد اور فجر کی نماز قضا ہوئی تو اس نے کہا تھا ایں جائے بودنیست یعنی یہ جگہ اس کے لیے نحوست والی ثابت ہوئی۔ کیوں کہ زندگی میں کبھی اورنگ زیب کی نماز قضا نہیں ہوئی تھی۔ نظام آباد تا حیدرآباد ریل لائن بھی نظام دور حکومت میں بچھائی جاچکی تھی۔ نظام آباد میں آزادی کے فوری بعد یعنی ۱۹۵۴ میں وہاں موجود کھوجہ برادری کی جانب سے آغا خان سوسائٹی کی جانب سے ایچ ایچ دی آغاخان اسکول قائم کیا گیا۔ آغا خان سوم سر سلطان محمد شاہ کی جانب سے آغا خان ایجوکیشن سروسز نام کے ادارہ کا قیام عمل میں لاتے ہوئے مختلف ایشیائی ممالک بالخصوص پورے برصغیر ہند و پاک میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز آزادی سے قبل کر دیا. اسی سلسلہ کی ایک کڑی نظام آباد میں قائم ایچ ایچ دی آغا خان اپر پرائمری اسکول ہے اس کا قیام سن 1954ء میں عمل میں آیا. جس کے قیام کا مقصد نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا تھا. اپنے قیام کے چند سال میں ہی اسکول شہر کے نامور تعلیمی ادارے میں شامل ہو گیا. شہر کا بہترین اسکول کا درجہ دلانے میں اسکول کے اساتذہ کرام کا اہم رول تھا. کہا جاتا ہے کہ اس اسکول کے ابتدائی اساتذہ میں جناب عبدالرزاق صاحب، سلام صاحب،عابدہ ٹیچر وغیرہ تھے۔ بعد میں جناب رشید حسینی، جناب مظہر فاروقی، جناب سید یعقوب علی، جناب عبدالماجد صاحب، جناب عبدالجبار صاحب،جناب خواجہ فہیم اللہ صاحب، جناب عسکری حسین عسکر صاحب، جناب اکبر علی دامانی صاحب، عبدالعزیز صاحب، محترمہ میمونہ صاحبہ، محترمہ حبیب النسا صاحبہ، محترمہ اقبال تقی صاحبہ، محترمہ نکہت صاحبہ اور دیگر نے اپنی خدمات سے اس اسکول کو ایک مثالی اسکول بنادیا۔ اسکول کا ذریعہ تعلیم اردو میڈیم سے تھا۔ اس اسکول سے سنہ ۷۰ تا سنہ ۹۰ کی دہائیوں میں تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھنے والے طالب علموں کی ایک کثیر تعداد نے زندگی کے عملی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ یہ اسکول ۹۰ کے بعد گولڈن جوبلی اسکول میں تبدیل ہوگیا ۔ اس اسکول کے فارغین میں  ڈاکٹر محمد احسن فاروقی جو اب نظامیہ طبی کالج میں پروفیسر معالجات اور حجامہ طریقہ علاج کے ماہر ہیں۔ راقم محمد اسلم فاروقی نے یونیورسٹی آف حیدرآباد سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور اب پروفیسر اردو اور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد کے عہدے پر فائزہ ہوں۔ اسکول کے فارغ ایک طالب علم ابو بکر نے ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کی اور بیرون ملک اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اقبال ٹیچر کے فرزند رضی الدین اسلم اب جونیر کالج بالکنڈہ کے پرنسپل ہیں۔اقبال ٹیچر کی دختر محترمہ انجم گورنمنٹ اسکول ٹیچر ہیں۔ میمونہ ٹیچر کی بھتیجی محترمہ امۃ الرحیم غزالہ اچم پیٹ جونیر کالج کی پرنسپل ہیں۔ میمونہ ٹیچر کے فرزندشاکر ڈیر ی کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کی دختران اسما عاصمہ سیما عذرا سبھی نے اس اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ اسما اور عذرا ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں۔اسکول کے مشہور استاد محترم یعقوب علی صاحب کے فرزندسید مجیب علی نظام آباد اور تلنگانہ کے ماہر تعلیم ہیں جو آغا خان اسکول سے فارغ ہیں انہوں نے اپنے والد کے مشورے پر خود کے تعلیمی ادارے کھولے اور اب ڈائرکٹر نالج پارک اسکول اور کریسنٹ انگلش میڈیم و اردو میڈیم اور کریسنٹ جونیر کالج نظام آباد کے بانی ہیں۔ یعقوب صاحب کے ایک فرزند سید ایوب علی ماہر تعمیرات اور تاجر ہیں جب کہ ان کے ایک اور فرزندسید نجیب علی نظام آباد کے نامور سیاست دان صحافی اور اردو اکیڈیمی کے سابق رکن بورڈ آف گورنرس ہیں۔ اسکول سے فارغ میرے ہم جماعت اسلم لوہیا نظام آباد کے نامور ایڈوکیٹ ہیں۔ اسکول سے فارغ ہونے والے طلبا میں اطہر معین صحافی، حلیم قمر سیاست دان، ایس اے کریم تاجر، ناظم الدین سماجی کارکن، عبداللہ اقبال شاعر و تاجر، عبدالعزیز بداوی تاجر، عبدالرحمٰن بداوی تاجر، جاوید ‘ندیم‘ جلیل، شکیل سلام زردہ برادرس،عادل سید دادے علی، رشید، سلام، اشرف حنانی،فاروق حنانی، امتیاز ڈاکٹر، منیر برادرس،مجید عارف، محمد صمیم صحافی، ماجد لنک کمپیوٹر،مجید عارف سعودی عرب بانی مائی نظام آباد ویب سائٹ، مقیت کارپوریٹر، محمد اسد فاروقی،محمد اکرم فاروقی سعودی عرب، ستار خان محفل ہوٹل، ستار مجاہد ،رفیق شاہی صحافی، عبدالباری مجاہد اور دیگر سینکڑوں طالب علم ہیں جنہیں احساس تھا کہ ہم جس مادر علمیہ آغا خان اسکول سے فارغ ہوئے ہیں اور دنیا کے عملی میدان میں ترقی حاصل کیے ہیں ہم اپنے اساتذہ کو یاد کریں۔ اور ان سے اظہار تشکر کے طور پر ایک تہنیتی تقریب منعقد کریں۔ اس کے لیے ایڈوکیٹ اسلم لوہیا اور رضی اسلم کی کاوشوں سے سب سے پہلے ایک واٹس گروپ آغا خان اسکول کے نام سے شروع کیا گیا۔ اور اس گروپ میں اسکول سے فارغ طلبہ کو شامل کیا جانے لگا۔ اسکول کے سابق طلبہ نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی اس کوشش کا خیر مقدم کیا۔ اور بہت جلد دو سو سے زائد سابق طلبہ اس گروپ میں شامل ہوگئے۔ کچھ سرگرم طلبہ روز گروپ میں ایک دوسرے سے سلام علیک کرتے ہیں اپنے تاثرات پیش کرتے ہیں۔ گروپ کی رکن محترمہ غزالہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے مرحوم اساتذہ کے نام لکھ کر ان کے حق میں دعائے مغفرت پیش کرتی ہیں۔ گروپ کے قیام کے تقریبا ایک سال بعد کچھ سرگرم سابق طلبہ آغا خان اسکول جن میں سید مجیب علی نالج پارک، محمد صمیم صحافی ، اسلم لوہیا ایڈوکیٹ، رضی اسلم پرنسپل ِ، عبداللہ اقبال شاعر، عبدالعزیز اور دیگر نے بالاخر مشورے سے طے کیا کہ ۲۱ ستمبر بروز اتوار صبح ۱۱ بجے تہنیتی تقریب رکھی جائے۔ اس کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مشورے ہوئے۔ اسکول کے باحیات اساتذہ جناب مظہر فاروقی حال مقیم حیدرآباد، جناب ماجد صاحب، جناب عبدالعزیز صاحب ریاستی صدر ایم پی جے محترمہ اقبال ٹیچر اور محترمہ حبیبہ ٹیچر سے رابطہ کیا گیا سب نے اس تہنیتی تقریب میں شرکت کی توثیق کی۔ ملک و بیرون ملک سابقہ طلبہ نے اس تقریب کے انعقاد کے لیے نیت خواہشات کا اظہار کیا۔ اور مالی عطیات بھی فراہم کیے، جناب سید مجیب علی صاحب نے نالج پارک کے آڈیٹوریم کو اس تہنیتی تقریب کے لیے استعمال کی اجازت دی۔ تہنیتی تقریب کے لیے اساتذہ کو مومنٹو دیا جانا طے پایا شال پوشی گول پوشی اور تحائف کی ذمہ داریاں طے پائیں۔ محمد صمیم عبداللہ اقبال عبدالعزیز اسلم لوہیا رضی اسلم نے دعوت ناموں کی اشاعت تہنیتی تقریب کے ظہرانے کے انتظامات اور تمام امور طے کیے۔ واٹس اپ گروپ بھی سرگرم رہا ۔سابقہ طلبہ نے اپنی شرکت کی توثیق کی اور تمام انتظامات کے بعد ۲۱ ستمبر بروز اتوار صبح ساڑھے گیارہ بجے آغا خان اسکول کے سابقہ طلبہ کے لیے وہ یادگار لمحہ آہی گیا جب کہ وہ چالیس سال قبل جن اساتذہ کی تربیت میں رہے انہیں باحیات اپنے روبرو دیکھنے کا موقع ملا ان کی نصیحتیں سننے اور دعائیں لینے کا موقع ملا۔ میں بھی علی الصبح حیدرآباد سے نکل کر وقت پر نظام آباد پہنچ گیا۔ صمیم سے مسلسل رابطہ رہا۔ مجھے پروگرام کی نظامت کرنے کا موقع دیا گیا۔ جیسے ہی میں اپنی بہن اور اسکول کی سابقہ طالبہ شہناز نسرین صاحبہ کے ہمراہ نالج پارک اسکول پہنچا وہاں ہماری پھوپھو محترمہ ساجدہ نسیم جو نکہت ٹیچر کی ہم جماعت تھیں اپنی بیٹی اور اسکول کی سابقہ طالبہ بلقیس بیگم نالج پارک میں جلسہ گاہ کی طرف رواں دوں نظر آئیں۔ صمیم اور عبدالعزیز، اور بعد میں اسلم لوہیا ایڈوکیٹ، رضی اسلم اور دیگر طلبہ قدیم اور جلسہ کے منتظمین سے ملاقات ہوئی۔ جلسے میں شرکت کے لیے مظہر فاروقی صاحب رات میں ہی اپنے افراد خاندان کے ساتھ نظام آباد پہنچ گئے تھے۔ جناب مجیب صاحب مظہر فاروقی صاحب کے ساتھ جلسہ گاہ پہنچ گئے۔ جناب عبدالعزیز صاحب جناب ماجد صاحب نکہت ٹیچر اور اقبال ٹیچر بھی اپنے افراد خاندان کے ساتھ جلسہ گاہ پہنچ گئے۔ یہ منظر بڑا ہی جذباتی تھا جب سابقہ طلبہ اپنے اساتذہ کو جھک جھک کر سلام کر رہے تھے اور اساتذہ انہیں پہنچانتے ہوئے مسرت کا اظہار کر رہے تھے۔ جلسہ گاہ میں بہت کم وقت میں سابقہ طلبہ مرد و خواتین کی کثیر تعداد جمع ہوگئی۔سابقہ طلبہ کے ہاتھ میں مائک دیا گیا کہ وہ اپنا نام ساتویں جماعت کا سال اور موجودہ مصروفیت بیان کریں۔ طلبہ نے جوش و خروش سے مسرت کے ساتھ اپنا تعارف پیش کیا۔ جو طلبہ جلسے میں شریک نہ ہوسکے گوگل فارم کے ذریعے ان کی تفصیلات لی گئیں اور دوران تقریب ان کے احوال پیش کیے گئے۔ جلسے کی کاروائی آغا خان اسکول کے سابقہ طالب علم حافظ صدیق برادر ڈاکٹر ابوبکر کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ اساتذہ کرام جناب ماجد صاحب مظہر فاروقی صاحب عبدالعزیز صاحب نکہت ٹیچر اقبال ٹیچر کو تالیوں کی گونج میں شہ نشین پر مدعو کیا گیا۔ پچھلی نشست پر اسکول کے مرحوم اساتذہ جناب سید رشید حسینی صاحب جناب عبدالجبار صاحب سید یعقوب علی صاحب خواجہ فہیم اللہ عابدہ ٹیچر حال مقیم کراچی کے اہل خانہ فرزندان اور دیگر کو بٹھایاگیا۔ مائک پر اعلان ہوا کہ اس تقریب میں ہمیں اپنے مرحوم اساتذہ کو بھی یاد رکھنا ہے اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنی ہے۔ تقریب کے پہلے حصے میں اسکول کے سابقہ طلبہ کی جانب سے تاثرات کی پیشکشی کا سلسلہ شروع ہوا۔ رضی الدین اسلم نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور اس تقریب کے انعقاد کے اغراض و مقاصد بیان کیے کہ آغا خان اسکول کے سابقہ طلبہ کا ہمیشہ یہ تاثر رہا ہے کہ ان کی ترقی میں ان کے پرائمری اسکول کے اساتذہ کی تربیت شامل حال رہی اور طلبہ چاہتے تھے کہ ان کے اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ رضی نے اسکول کی یادوں کو بیان کیا۔ رضی کی بہن انجم نے اسکول کی یادوں جناب یعقوب صاحب جناب ماجد صاحب جناب عسکری صاحب میمونہ ٹیچر نکہت ٹیچر اور دیگر کے پڑھانے کے اندازہ اسکول کے کمرہ جماعت اور اسکول کی سرگرمیوں کو دلچسپ انداز میں پیش کیا۔ اسکول کے باہر چنے بیچنے والے کے گیت چنا جور گرم بابو کو یاد کیا گیا۔ اسکول کے ملازم جناب پاشا ہ بھائی کو بہت یاد کیا گیا جو گھنٹی مارنے کے علاوہ چھٹی کے اعلان کا رجسٹر لاتے تھے جس پر طلبہ مسرت کا اظہار کرتے تھے۔ اسلم لوہیا ایڈوکیٹ صمیم عبداللہ اقبال،عبدالرحمن بازراہ، عبدالعزیز،ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی ، سید مجیب علی، عبدالباری مجاہد ،ایس اے کریم تاجر اور دیگر نے مخاطب کیا۔ اور اساتذہ سے اپنے تعلق اپنی شفقت کا بھرپور اظہار کیا۔ سابقہ طلبہ کی تقاریر کے بعد اساتذہ کی تہنیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور مرحلہ وار جناب ماجد صاحب، جناب مظہر فاروقی صاحب، جناب عبدالعزیز صاحب، نکہت ٹیچر اقبال ٹیچر اور مرحوم اساتذہ کے افراد خاندان کو گلپوشی شال پوشی اور مومنٹو کے ذریعے تہنیت پیش کی گئی۔ ڈاکٹر ابوبکر نے اساتذہ کے لیے شوگر ٹیسٹ کٹ پیش کیے۔ ایس اے کریم تاجر نے تحائف دئیے۔ اسلم لوہیا ایڈوکیٹ کی جانب سے تحفہ پیش کیا گیا۔ سابقہ طلبہ نے گروپ بنا کر اساتذہ کو تہنیت پیش کی۔ تہنیت کا یہ سلسلہ ایک گھنٹہ چلتا رہا۔ دو گھنٹے بعد بھی طلبہ اور اساتذہ بغیر کسی بے چینی کے ہال میں بیٹھے رہے تاکہ اپنے اساتذہ کے تاثرات اور نصیحتیں سنیں۔ انتظامیہ نے موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے اسنیکس اور ملک شیک کا انتظام سبھی شرکا کے لیے کیا۔ اعلان ہوا کہ تقریب کے انعقاد کے بعد مسجد یعقوب میں نماز ظہر ادا کی جائے گی اور اس کے بعد نالج پارک سے متصل گیسٹ ہائوز میں سب کے لیے ظہرانے کا انتظام رہے گا۔ محترمہ نکہت ٹیچر نے اشعار کی لڑی پروتے ہوئے جذباتی انداز میں تقریر کی اور آغا خان اسکول سے اپنی وابستگی اور سینکڑوں شاگردوں کی تربیت اور ان کے لیے دعائوں اور دین و دنیا کی ترقی کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کی یادگار تقریب ہے کہ چالیس سال بعد طلبہ نے اپنے اساتذہ کو یاد رکھا۔محترمہ اقبال ٹیچر نے طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور اس تقریب کے انعقاد کے لیے اظہار تشکر کیا۔ جناب ماجد صاحب نے خرابی صاحب اور ضعیفی کے باوجود تین گھنٹے تقریب میں شرکت کی اور اپنے خطاب سے طلبا کو مستفید کیا اور انہیں دعائیں پیش کیں۔ جناب عبدالعزیز صاحب اسکول کے زمانے سے شعلہ بیان مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تقریب مرحوم اساتذہ کے لیے اظہار تعزیت اور موجود اساتذہ کو تہنیت پیش کرنے کے لیے رکھی گئی انہوں نے والدین کی جدائی کو بڑی محرومی قرار دیا اور کہا کہ آغا خان اسکول کے اساتذہ سے مجھے پڑھنے اور اسکول میں کام کرنے کا موقع ملا یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ جناب مظہر فاروقی نے کہا کہ نظام آباد میرے لیے ہمیشہ محترم رہا ہے جہاں انہوں نے ملازمت کا آغاز کیا اور مولانا آزاد اردو یونیورسٹی تک ترقی کے مراحل طے کیے انہوں نے کہا کہ مجیب میرے وہ شاگرد ہیں جنہیں پہلی جماعت اور پی ایچ ڈی میں داخلہ دلانے کا انہیں شرف حاصل ہوا انہوں نے تمام طلبہ قدیم کو مبارکباد پیش کی۔ تہنیتی تقریب کو نظام آباد کے مشہور صحافیوں امیر جرنلسٹ اور خالد خان نے اپنے فیس بک پر براہ راست پیش کیا اور دنیا بھر سے اسکول کے طلبہ قدیم اور دیگر لوگوں نے تقریب کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ تاثر پیش کیا کہ اپنے قدیم اساتذہ کی تہنیت کے لیے ایسی یادگار تقریب پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ طلبہ نے اپنے اساتذہ کے ساتھ ظہرانے میں شرکت کی جس میں لذیذ پکوان میٹھے اور چائے کا انتظام کیا گیا تھا۔ سابقہ طلبہ نے ایک دوسرے سے ملاقات کی اور اسکول کی یادوں کو دہرایا اور کہا کہ اس طرح ملتے رہنا چاہئے۔ راقم ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے تجویز پیش کی کہ سابقہ طلبہ زندگی کے مختلف میدانوں میں ترقی حاصل کیے ہیں کیوں نہ اسکول کے نام پر ایک تعلیمی و سماجی ٹرسٹ قائم کیا جاے اور ہر سال اس طرح ایک تقریب رکھ کر ضرورت مند طلبہ کی مالی مدد کی جائے اس تجویز کو پسند کیا گیا اور طلبہ نے اس پر کام کرنے کا تیقن دیا۔ تقریب کے اختتام پر طلبہ نے اپنے اساتذہ سے دعائیں لیتے ہوئے انہیں ان کے تحائف کے ساتھ رخصت کیا۔ اسلم لوہیا ایڈوکیٹ نے اس تقریب کی ویڈیو ریکارڈنگ کروائی جسے بہت جلد یوٹیوب پر پیش کیا جائے گا۔ تقریب کے دوسرے دن اردو اخبارات میں تقریب کی روداد شائع ہوئی جسے دنیا بھر میں پڑھا گیا اور آغا خان اسکول کے واٹس اپ گروپ میں ابھی تک اس تقریب کی کامیابی کے چرچے ہیں۔ نکہت ٹیچر نے بہت سے سابقہ طلبہ کو فون کرکے انہیں مبارکبادی اور تہنیت کے لیے اظہار تشکر کیا۔ اس تقریب مین نکہت ٹیچر کے شوہر ان کے بیٹے اور پوتی نے شرکت کی اور انگریزی میں اظہار خیال کیا۔ تقریب کے بعد سابقہ طلبا نے گروپ فوٹو لیے اور جناب مجیب صاحب سے نالج پارک آڈیٹوریم میں تقریب کے کامیاب انعقاد کے لیے اظہار تشکر کیا۔ اس طرح آغا خان اسکول اردو میڈیم کے سابقہ طلبہ کی یہ تقریب نظام آباد کے سماجی حلقوں میں ایک یادگار تقریب کے طور پر مشہور ہوگئی۔