Wednesday, October 21, 2026

مسعود حسین خان از پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ

 

مسعود حسین خان


پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ



 

پروفیسر مسعود حسین خاں کی رحلت (16) اکتوبر 2010ء) کے ساتھ اردو میں لسانیاتی تحقیق کے ایک دور کا خاتمہ ہو گیا ۔ یہ دور بیسویں صدی کی ان تین مقتدر علمی شخصیات پر مشتمل تھا جنھوں نے لسانی تلاش وتحقیق کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ اسے ہم اردو میں لسانی تحقیق کی پہلی نسل سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ مسعود حسین خان اس نسل کے آخری فرد تھے ۔ ہر چند -زمانی اعتبار سے اس نسل کے دیگر دو محققین -حافظ محمود خان شیرانی (متوفی 1946ء) اور -سید محی الدین قادری زور (متوفی 1962 ء ) . کو مسعود حسین خاں پر تقدم حاصل تھا، تاہم تحقیقی کاموں کی کیفیت و کمیت اور نوعیت نیزجدید لسانیاتی بصیرت کے اعتبار سے مسعود صاحب کو جو امتیاز حاصل تھا وہ ان دونوں محققین کے حصے میں نہ آسکا۔ تاہم ان تینوں محققین کو ہم لسانیاتی تحقیق کے عناصر ثلاثہ کے نام سے یاد کر سکتے ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مسعود حسین خاں نے اپنے کیریر کی ابتدا میں اگر چہ آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی ) کی ملازمت اختیار کر لی تھی لیکن چوں کہ وہ حد درجہ علمی وادبی اور تحقیقی ذوق ، رکھتے تھے اور درس و تدریس کے پیشے سے انہیں خاص رغبت تھی ، اس لیے وہ جلدہی ریڈیو کی ملازمت سے مستعفی ہو کر 1943ء میں علی گڑھ مسلم یو یورسٹی کے شعبہ اردو سےبہ حیثیت استاد منسلک ہوگئے ۔ پھر 1962 ء میں وہ عثمانیہ یونیورسٹی (حیدر آباد) کے شعبہ اردو کے پروفیسر و صدر مقرر ہوئے لیکن جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 1968 میں لسانیات کا با قاعدہ طور پر شعبہ قائم ہوا تو وہ اس کے پروفیسر اور بانی صدر کے)Founder Chairman

( عہدے پر فائز ہوئے۔

یہاں سے سبک دوش ہونے کے بعد انہیں اس شعبے کے تاحیات ایمریٹس پروفیسر ہونے کا)

Emeritus Professor( اعزاز حاصل ہوا۔ مسعود حسین خان

1981-82 کے دوران اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر یونیورسٹی (سری نگر) کے وزٹنگ پروفیسر بھی رہے جہاں انھوں نے اقبال کا نہایت ذوق وشوق لگن اور دل جمعی کے ساتھ مطالعہ کیا اور اقبال کی شاعری پر کتاب لکھی۔ کشمیر سے واپسی پر انھوں نے کئی اور علمی و تصنیفی کام کیے جن میں ورود مسعود ( خود نوشت سوانح حیات کی تکمیل واشاعت خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے۔ گویا ان کی پوری زندگی درس و تدریس ، مطالعہ وتحقیق اور تصنیفی و تالیفی کاموں میں ہی گزری.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسعود حسین خان محقق اور ماہر لسانیات بننے سے قبل ایک شاعر اور گیت کار تھے. لیکن جیسے جیسے لسانیات اور لسانی مسائل، نیز تحقیق و تدوین -سے ان کا رشتہ استوار ہوتا گیا، شعر گوئی سے ان کی رغبت کم ہوتی گئی، یہاں تک کہ " 1956ء میں ا اپنے مجموعہ کلام دو نیم کی " اشاعت کے بعد کے سے انھوں نے شعر کہنا بہت کم کر دیا ۔ یہ امر واقعہ ہے کہ مسعود صاحب کو شاعر کی حیثیت سے وہ شہرت نہ مل کی جو انھیں ایک محقق، نظریہ ساز اور ماہر لسانیات کی حیثیت سے حاصل ہوئی۔

علی گڑھ میں اپنے قیام کے دوران -انھوں نے چند تنقیدی مضامین بھی لکھے لیکن ۔ وہ ادبی تنقید کے داخلی و تاثراتی انداز سے : مطمئن نہ تھے اور ادب کے مطالعے میں معروضیت کے متلاشی تھے۔ وہ ادب کا ۔ مطالعہ متن کو خود کفیل و خود مختار مان کر کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ جلد ہی روایتی ادبی تنقید . سے ان کا جی بھر گیا۔ ان کے تنقیدی نوعیت -کے مضامین ان کے مجموعہ مضامین اردو زبان اور ادب ( 1952ء) میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ انھیں اقبال اور مطالعہ اقبال سے خصوصی لگاؤ تھا۔ انھوں نے اقبال کو پڑھا بھی تھا اور پڑھایا بھی تھا، چنانچہ علی گڑھ سے سبک دوش ہونے کے بعد جب 1981 ء میں ان کا تقررا قبال انسٹی ٹیوٹ، کشمیر یونیورسٹی (سری نگر) میں بہ حیثیت و زٹنگ پروفیسر ہوا تو اقبال کی شاعری اور ان کی فکر وفن پر انھوں نے ایک تنقیدی کتاب تصنیف کی جو اقبال کی نظری و عملی شعریات کے نام ے 1983ء میں اقبال انسٹی ٹیوٹ (کشمیر یونیورسٹی ) کی جانب سے اشاعت پذیر ہوئی ، اور اسے 1984ء کے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ اس کتاب میں مسعود صاحب کا انداز نقد معروضی رہا ہے۔ اس میں انھوں نے اقبال کی بعض نظموں کا اسلوبیاتی تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔پروفیسر مسعود حسین خاں بنیادی طور پر لسانیاتی حقیق کے مرد میدان تھے۔ ان کا بنیادی تحقیقی کام ان کا وہ عالمانہ تحقیقی مقالہ ہے جس میں انھوں نے اردو زبان کا عہد بہ عہد ارتقا اور تاریخ بیان کی ہے اور اس کے آغاز کا سب سے قابل قبول نظریہ بھی پیش کیا ہے۔ اس تحقیقی مقالے پر انھیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1945 ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری  تفویض ہوئی ۔ ۱۹۴۸ ء میں مقالہ  کتابی صورت میں ء مقد مہ  تاریخ زبان اردو کے نام سے شائع ہوا اس کے اب تک دس سے زائد ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ علمی حلقوں میں اس کتاب کی خاطر خواہ پذیرائی ہوئی - مسعود حسین خان کو ایک لسانی محقق اور نظریہ ساز کی حیثیت سے جو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی اس کی بنیاد یہی کتاب ہے۔

پروفیسر مسعود حسین خاں کا عالمانہ اور محققانہ کام تاریخی لسانیات ہی سے رکھتا ہے جس میں کسی زبان کے آغاز وابتدا کی چھان بین کی جاتی ہے اور اس کے عہد یہ عبد ارتقا کی تاریخ بیان کی جاتی ہے، نیزان تبدیلیوں پر غور کیا جاتا ہے جو امتداد زمانہ کے

ساتھ اس زبان میں وقوع پذیر ہوتی رہی ہیں۔ یہ تبدیلیاں صوتی ، صرفی، لغوی ، نحوی ، قواعدی اور معنیاتی سطحوں پر واقع ہوتی ہیں جنہیں لسانیاتی تبدیلیاں کہتے ہیں ہر زندہ زبان میں اس نوع کی تبدیلیوں کا واقع ہو نا لازمی امر ہے۔ مسعود حسین خاں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ پہلے لسانی محقق ہیں جنھوں نے تاریخی لسانیات کی روشنی میں اور نہایت منظم و منضبط انداز میں اردو زبان کی باقاعدہ تاریخ بیان کی ہے اور اس کے آغاز کا سب سے قابل قبول نظریہ پیش کیا ہے جس نے پچھلےتمام نظریوں کو رد کر دیا ہے۔ نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی مسعود صاحب کے پیش کردہ نظریہ آغاز زبان اُردو کو تا حال کوئی دوسرا محقق ٹھوس لسانیاتی بنیادوں پر چیلنج نہیں کر سکا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسعود حسین خاں صاحب سے قبل اردو زبان کی کوئی منظم و مربوط اور باقاعدہ تاریخ نہیں لکھی گئی ۔ حافظ محمود خان شیرانی نے پنجاب میں اردو (1928ء) میں اردو زبان کی عہد بہ عہد تاریخ نہیں بیان کی ہے، بلکہ اردو کے پنجاب میں پیدا ہونے کا محض نظریہ پیش کیا ہے جو ان کا اپنا نظریہ نہیں، بلکہ ان سے پہلے شیر علی خان سر خوش اس نظریے کو اپنے تذکرہ اعجاز بن (1923ء) میں پیش کرچکے تھے ۔ سیدمحی الدین قادری زور بھی اپنی کتاب ہندوستانی لسانیات (1932ء) میں زیادہ تر لسانیات کے مقاصد و فوائد اور زبان کی ماہیت، آغاز و تشکیل اور تغیر و تبدل ہی سے بحث کرتے ہیں اور دنیا کی زبانوں کے طریقہ تقسیم اور ان کی درجہ بندی پر اپنی ساری توجہ صرف کرتے ہیں۔ وہ زبان اردو کو اردو کہنے کے۔ بجائے ہندوستانی کہتے ہیں اور ہندوستانی کے آغاز کے مختلف نظریات بیان کرنے کے بعد شیرانی کی تقلید میں اس کا ارتقاء پنجاب سے بتاتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ زبان ہندوستانی کا ارتقا پنجاب ہی سے شروع ہو چکا تھا لیکن اس کے ثانوی مدارج دوآبہ ، گجرات اور دکن میں تکمیل کو پہنچے۔ وہ اردو کی عہد بہ عہد تاریخ بیان کرنے کے بجائے اس کی مقامی لسانی خصوصیات پر زیادہ توجہ صرف کرتے ہیں، اور اردو ہندی تنازعہ پر اپنی کتاب " ہندوستانی لسانیات ختم کر دیتے ہیں۔

پروفیسر مسعود حسین خاں کی لسانیاتی تحقیق کا دوسرا پہلو صوتیات با لخصوص عروضی Prosodic( صوتیات phonology) ہے۔ اس موضوع سے انھیں اس وقت دلچپسی پیدا ہوئی جب انھوں نے اعلیٰ تعلیم کی غرض سے 1950 ء میں یورپ کا سفر کیا۔ مسعود صاحب نے 1950 1953 - انگلستان اور فرانس کی دانش گاہوں میں رہ کر لسانیات جدید کی اعلیٰ تربیت حاصل کی. اور پیرس (فرانس) سے ڈی لٹ (D.Lit) کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا یہ تحقیقی مقالہ انگریزی میں تھا جو

"A Phonetic and

Phonological Study of the Word in Urdu."/

کے نام سے شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے 1954ء میں کتابی صورت میں شائع ہوا تھا ۔ مسعود صاحب کے اس عالمانہ حقیقی کارنامے سے اہل اردو ایک طویل عرصے تک ناواقف تھے۔ راقم السطور نے اس مقالے کا اردو میں ترجمہ کیا اور اپنے مفصل مقدمے کے ساتھ اردو لفظ کا صوتیاتی اور تجر صوتیاتی مطالعہ کے نام سے 1986ء میں شعبہ لسانیات علی گڑھ مسلم یونیورٹی کی جانب سے شائع کیا۔ اردو میں اس نوع کے مطالعے اور تجزیے کی یہ پہلی کوشش تھی۔

اردو صوتیات کے ضمن میں مسعود صاحب کے بعض دیگر کام بھی خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، مثلاً انھوں نے بڑی تحقیق اور غور و فکر کے بعد اردو حروف تہجی کی صوتیاتی ترتیب پیش کی ، اور اردو صوتیوں

کی بعض خصوصیات Phonemes(

کی نشاندہی کی جن کی جانب اب تک کسی ماہر لسانیات نے اپنی توجہ مرکوز نہیں کی تھی۔ پروفیسر مسعود حسین خاں کو بجا طور پر اردو میں اسلوبیاتی تنقید کا بنیاد گزار تسلیم کیا گیا ہے۔ انھوں نے امریکہ سے واپسی پر 1960ء کے بعد سے اسلوبیاتی نوعیت کے مضامین لکھنا شروع کیے جس سے اردو میں ایک نئے دبستان تنقید، یعنی اسلوبیاتی تنقید کی بنیاد پڑی۔ اس سلسلے کے ان کے مضامین بعض رسائل کے علاوہ ان کے مجموعہ مضامین شعر و زبان (1966ء) میں بھی شامل ہیں۔ مسعود صاحب نے اسلوبیات (Stylistics) کی نظری بنیادیں اپنے ایک مضمون مطالعہ شعر (صوتیاتی نقطہ نظر میں بھی پیش کی ہیں۔

اس سلسلے کا ان کا آخری مضمون بہ عنوان اسلوبیات ہے جو شعبہ لسانیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تحقیقی مجلے اطلاقی لسانیات کے شمارہ: 3-2 ، بابت 2002 -2003 ء میں شائع ہوا۔

پروفیسر مسعود حسین خان کو تدوینی کاموں سے بھی خصوصی دلچسپی رہی ہے۔ انھوں نے حیدر آباد میں اپنے قیام کے دوران میں تین مثنویاں اور ایک داستان مرتب کر کے شائع کی جن کے ہم یہ )2(،)1965( ہیں: 1) پرت نامه بکٹ کہانی (1965) (3) ابراہیم نامہ (1969ء) اور 'قصہ مہر افروز ودلبر (1966) ۔ حیدر آباد سے علی گڑھ واپسی پر انھوں نے ایک اور مثنوی عاشور نامہ مرتب کر کے 1972 ء میں شائع کی۔ مسعود صاحب نے ان قدیم متون کو اصول تدوین کے مطابق اور معیاری طرز پر مرتب کر کے شائع کیا ہے، اور ان کی مقدمہ نگاری میں ادبی ولسانی تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے۔

پروفیسر مسعود حسین خان ایک بہترین آپ بیتی نگار کی حیثیت سے بھی یاد رکھے جائیں گے ۔ انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح حیات ورود مسعود کے نام سے لکھی جسے اردو کی بہترین خود نوشت قرار دیا گیا۔ اس میں انھوں نے کھری اور سچی باتیں لکھ دیں جو کچھ لوگوں کو بری لگیں اور بعض لوگ ان سے ناراض ہو گئے لیکن مسعود صاحب کا کہنا تھا کہ اس میں انھوں نے وہی باتیں لکھی ہیں جو سچ تھیں اور انھیں ٹھیک لگیں ۔ ورود مسعود پر سب سے بہترین تبصرہ مشفق خواجہ نے ہفت روزہ عمیر (کراچی) میں کیا ؟ تھا۔ خواجہ صاحب بعض خود نوشتوں کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : "... اور اب : اردو میں ایک ایسی آپ بیتی بھی شائع ہوگئی ہے جسے بلاشبہ اردو کی بہترین آپ بیتیوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے مصنف ہیں اور مشہور ماہر لسانیات محقق، نقاد اور شاعر ڈاکٹر مسعود حسین خاں، اور آپ بیتی کا نام ہے ورودمسعود ۔ یہ دوسری بات ہے کہ بعض لوگ اسے نا مسعود قرار دیں گے، کیوں کہ : اس میں ان کا ذکر اچھے لفظوں میں نہیں آیا۔ اس خود نوشت کے حوالے سے دہلی کے ایک شخص نے مسعود صاحب پر ازلہ = حیثیت عرفی کا مقدمہ دائر کر دیا تھا۔ کئی سال تک دہلی کی عدالت میں یہ مقدمہ چلتا -رہا، بالآخر جیت مسعود صاحب ہی کی ت ہوئی۔ اس کتاب کی سچائی کی اس سے بڑھ کر مثال اور کیا ہو سکتی ہے !

مسعود صاحب نے ادبی صحافت کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ انھوں نے تھوڑے ہی عرصے میں اس میدان میں بھی اپنی کارکردگی کا لوہا منوالیا تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی (حیدر آباد) کے شعبہ اردو سے منسلک ہونے کے بعد انہوں نے قدیم اردو کے نام سے ایک تحقیقی مجلہ جاری کیا جس میں شمال و دکن سے قدیم متون شائع کیے جاتے تھے۔ یہ سلسلہ ان کے علی گڑھ واپس آنے کے بعد بھی جاری رہا۔ قدیم اردو کی چار ضخیم جلدیں شائع ہوئیں۔ جلد اول، جلد دوم اور جلد سوم حیدر آباد سے اور جلد چہارم 1972 کا اجرا علی گڑھ سے عمل میں آیا ۔ قدیم اردو کی ان چار جلدوں میں بکٹ کہانی (محمد افضل افضل)، پرت نامه (فیروز بیدری)، مینا ستونتی (غواصی )، شمائل الاتقیا ( میراں یعقوب) ، ابراہیم نامہ (عبدل دہلوی ) اور عاشور نامه (روشن علی( جیسے قدیم متون ایڈٹ کر کے شائع کیے گئے جن کی ادبی ، لسانی اور تاریخی اہمیت سے انکار نہیں کہا جاسکتا۔ مسعود صاحب کی ادبی صحافت کو اس وقت چار چاند لگے جب انھوں نے انجمن ترقی اردو (ہند) کے جنرل سکریڑی پروفیسر آل احمد سرور کی عدم موجودگی میں اس انجمن کے جنرل سکریٹری کا عہدہ سنبھالا ، اور اس کے ہفتہ وار تر جمان ہماری زبان اور سہ ماہی اردو ادب کے ایڈیٹر کے فرائض انجام دیے ۔ مسعود حسین خاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے علمی و حقیقی مجلے فکر و نظر کے بھی

1971 تا 1973 مدیر رہے۔مسعود حسین خاں نے ہفتہ وار ہماری زبان کے مدیر کی حیثیت سے1969-70 اور 1972ء کے دوران خدمات انجام دیں۔ ان کے ہماری زبان میں تحریر کردہ اداریوں اور میرا صفحہ کے تحت شائع شده ان کے مختصر مضامین کا مجموعہ راقم السطور نے اردو کا المیہ کے نام سے مرتب کیا.کیا۔ یہ کتاب شعبہ لسانیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے 1973 ء میں شائع ہوئی۔ ان اداریوں اور مضامین میں مسعود صاحب نے ہندوستان میں اردو کی لسانی صورت حال کا صحیح جائزہ اور اس کی حالت زار کی سچی تصویر پیش کی ہے۔ انھوں نے اردو کے مسئلے پر جس بے باکی اور جرات مندی کے ساتھ قلم اٹھایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اردو تحریک کے فعال قلم کار کی حیثیت سے مسعود حسین خان کا نام ہمیشہ لیا جاتا رہے گا۔

پروفیسر مسعود حسین خان اگر چه سیاسی آدمی نہ تھے اور نہ ہی سیاسی معاملات سے ان کا کچھ لینا دینا تھا، تاہم انہوں نے آج سے بیس سال قبل مغربی اتر پردیش کےچھ اضلاع پر مشتمل ایک اردو پردیش ( (یوپی) کے قیام کا تصور پیش کیا تھا۔ یہ چھ اضلاع ہیں : 1 سہارن پور ، 2 مظفر نگر 3 میرٹھ 4 بجنور 5 رام پور اور 6 مراد آباد جن میں اردو بولنے والوں کا کثیر اجتماع پایا جاتا ہے۔ ان کے اس تصور یا نظریے کے ہے ان کا مضمون Urdu and the " 1981, Census of India

میں ملا حظہ کیا جا سکتا ہے جو شعبہ لسانیات ، علی گڑھ مسلم یو یورسٹی کے پہلے Allgarh

Papers in Linguistics

Number-2 Vol-1 (July-December 1991) میں شائع ہو اتھا ۔

ایک ممتاز عالم و دانشور محقق اور ماہر لسانیات ہونے کے ساتھ ساتھ مسعود حسین خاب ایک شاعر بھی تھے ، بلکہ ان کی ادبی زندگی کا آغاز شاعری ہی سے ہوا تھا۔ انہوں نے شعر کہنا اس وقت شروع کیا تھا جب وہ ڈھاکہ میں زیر تعلیم تھے اور ان کی عمر به مشکل چودہ یا پندرہ سال تھی ۔ چنانچہ ان کے شعری مزاج کی تربیت میں بنگال کی سحرآ فریں فضا کا زبردست ہاتھ رہا ہے۔ٹیگور اور اور نذرل کا تہذیبی پس منظر بھی ڈھاکہ میں قیام کے دوران ان کی شاعری کا محرک بنا۔ اپنے شعری محرکات و اکتسابات بارے میں انھوں نے اپنی خود نوشت ورود مسعود میں تفصیل سے لکھا ہے ۔ مسعود حسین خاں کا مضمون ' میرا شعری تجربہ ان کے نظریہ شعر کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ مسعود صاحب ابتدا میں گیت نگاری کی جانب مائل ہوئے تھے ۔ ان کے گیتوں کامجموعہ دیوناگری رسم الخط میں روپ بنگال اور دوسرے گیت کے نام سے شائع ہوا ہے بہ قول مسعود حسین خاں یہ ٹھیٹ ہندوستانی گیت ہیں۔ ان کا اردو مجموعہ کلام دو نیم پہلی بار 1966ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد اس مجموعے کے دو اور ایڈیشن نکلے جن میں کچھ اضافے بھی کیے گئے ۔ شعر مسعود صاحب کے لیے ہمیشہ ذریعہ نجات رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ شعر مکمل اظہار ذات کا وسیلہ ہونا چاہیے۔ اگر اس اظہار ذات کے ساتھ کوئی انداز اگر بر آمد ہوتا ہے تو فبھا نہیں تو کوئی ضرورت نہیں کہ کسی فکر کو آلہ شعر بنایا جائے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسعود حسین خان کو شاعر کی حیثیت سےوہ شہرت نہ مل کی جو انہیں ایک محقق اور ماہر لسانیات کی حیثیت سے حاصل ہوئی۔ اس کی دو وجہیں بیان کی جاسکتی ہیں۔ اول یہ کہ مسعود صاحب نے بہت کم کہا ہے۔ ان کا شعری سرمایہ صرف دو نیم پر مشتمل ہے جو ایک مختصر سا مجموعہ کلام ہے۔ انھوں نے 1950 ء کے بعد سے شعر کہنا اگر چہ بند نہیں کیا تھا، لیکن کم ضرور کر دیا تھا۔ ان کی شاعری کی عمر صرف ہیس بائیس سال ہی قرار دی جاسکتی ہے۔ دوم یہ کہ جس زمانے میں مسعود صاحب نے شاعری شروع کی تھی وہ دور ترقی پسند ادبی تحریک کا ابتدائی زمانہ تھا، لیکن انہوں نے اس تحریک کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ وہ خود فر ماتے ہیں ترقی پسند تحریک کی جانب میرا رویہ نوٹس نہ لینے کا رہا اس لیے کہ میں اس تحریک کے ماخذ اور مولد دونوں کی جانب اپنے لیے کشش نہیں رکھتا تھا۔ مجھے نہ تو مارکس کی فکر اور نہ اسٹالن کی آمریت متاثر کر سکی .. میرا انفرادیت پسند ذہن ہر قسم کی گروہ بندی سے متنفر رہا.اس لیے گروہ بندیوں نے میری شاعری کاکبھی نوٹس نہیں لیا. ایک اور علمی میدان جس سے مسعود حسین خان صاحب کو خصوصی دلچسپی رہی وہ اردو رسم الخط ہے جس کے مسائل پر انہوں نے علمی و سائنسی انداز سے غور کیا ہ وہ اردو کا رسم الخط بدلنے کے سخت مخالف تھے، لیکن وہ اردو رسم الخط اور اردو حروف تہجی میں اصلاح کے زبردست حمایتی تھے۔ ایک زمانے میں انھوں نے اردو حروف بھی میں سے سات حروف ، یعنی ذ ض ظ ط ث ص کو خارج کر دیے جانے کی وکالت کی تھی وہ ان حروف کو زائد حروف" کہتے تھے جو عربی سے لیے گئے یہی نہیں، بلکہ وہ انھیں مردہ لاش ، تصور کرتے تھے جسے اردو رسم الخط اٹھائے ہوئے ہے۔ اپنے ایک مضمون " اردو صوتیات کا خاکہ میں مسعود حسین خاں یوں رقم طراز ہیں :

Consonantsمصمتوں

کے سلسلے میں ان زائد حروف کا ذکر بھی ضروری ہے جو عربی سے لیے گئے ہیں اور جو ہمارے حروف تہجی اور نظام درس کے لیے پیر تسمہ یا (مجازا ) وہ جس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو بنے ہوئے ہیں، میری مراد: ذ ض ظ ط ص ث وغیرہ سے ہے۔ صوتی نقطہ نظر سے یہ سب مردہ لاشیں ہیں جسے اردو رسم الخط اٹھائے ہوئے ہے، صرف اس لیے کہ ہمارا لسانی رشتہ عربی سے ثابت رہے۔

مسعود حسین خان کے اس حقیقت پسندانہ نظریے کی اردو کے بعض حلقوں میں سخت رد عمل ہوا لیکن وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ اردو رسم الخط کو بدلنے یا اس کی جگہ پر کوئی اور رسم الخط اختیار کیے جانے کے سخت مخالف تھے۔انہوں نےواضح الفاظ میں کہا تھا کہ اردو رسم الخط کی ان مشکلات اور خامیوں کے باوجود اردو کے اس رسم الخط کا قائم رکھنا نا گزیر ہے۔بعض حلقوں کی جانب سے جب اردو کے لیے دیوناگری رسم الخط کی تجویز پیش کی گئی تو مسعود صاحب نے اس کا ڈٹ کرمقابلہ کیا اور کہا:

اردو کے لیے ہندی رسم الخط کی تجویز نہ صرف آئینی اعتبار سے خطر ناک ہے، بلکہ لسانی اعتبار سے بھی مہمل ہے۔ ہندوستان میں یہ رسم الخط اردو زبان کے لیے قدرتی فصیل کا حکم رکھتا ہے۔ اردو کا تصور اس کے بغیر ناممکن ہے۔

دکنیات بھی مسعود حسین خاں کا ایک پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ حیدر آباد (دکن) کے چھ سالہ قیام(1962..1968ء) کے دوران میں مسعود حسین خان نے دکنی زبان و ادب کے مطالعے میں خصوصی دلچسپی لی۔ مجلہ قدیم اردو کے اجراء سے لے کر دکنی متون کی تدوین ، دکنی لغت کی ترتیب اور محمد قلی قطب شاہ پر مونو گراف کی اشاعت تک مسعود صاحب کے لائق ستائش علمی کارنامے رہے ہیں ان کی اہل اردو نے بھر پور داد دی ہے۔دکنی اردو کی لغت1969ء) مسعود حسین خاں کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ یہ در اصل قدیم دکنی اردو کی لغت ہے، کیوں کہ اس کے تمام الفاظ دکنی متون کے مطبوعہ اور قلمی نسخوں سے حاصل کیے گئے ہیں ۔ ہر لفظ کے معنی دینے کے بعد اس کی مثال یا تو ۔ دکنی متن کے مطبوعہ نسخے سے پیش کی گئی ہے یا قلمی نسخے سے ۔ یہ کام مسعود صاحب کی ۔ برسوں کی محنت اور عرق ریزی کا نتیجہ ہے۔ دکنی اردو کی لغت کو یہ اختصاص حاصل ہے کہ یہ ایک غیر دکنی نے تیار کی ہے۔ اس میں الفاظ کی تعداد تقریبا سات ہزار ہے۔ اس کی تیاری میں ہارہ سال صرف ہوئے ۔ یہ آندھرا پردیش ساہتیہ اکیڈمی ، حیدر آباد سے 1969 ء میں شائع ہوئی ۔دکنیات کے سلسلے میں مسعود حسین خان کا دوسرا اہم کارنامہ دکنی متون پرت نامه (فیروز بیدری)، اور ابراہیم نامہ -عبدل دہلوی ) کی تدوین ہے۔ یہ کام -بھی انہوں نے حیدر آباد میں اپنے قیام کے دوران کیا۔ پرت نامه علمی و تحقیقی مجلہ قدیم اردو کی جلد اول میں 1965ء -میں شائع ہوا، اور ابراہیم نامہ کی اشاعت : قدیم اردو کی جلد سوم 1969 ء میں عمل -میں آئی۔ ان دونوں متون کو مسعود -صاحب نے سائنٹفک بنیادوں پر پر ایڈیٹ کرکے شائع کیا ہے، اور دونوں پر انھوں نے سیر حاصل اور وقیع مقدمات بھی لکھے ہیں جن میں نہ صرف مصنفین کے حالات بیان کیے گئے ، بلکہ متون کی زبان اور لسانی خصوصیات کا مبسوط جائزہ بھی پیش کہا گیا ہے۔ محمد قلی شاہ پر مسعود حسین کا مونوگراف بھی ان کی دکنیات سے گہری دلچسپی کا مظہر ہے۔ محمد قلی قطب شاہ گول کنڈہ کی قطب شاہی سلطنت کا پانچواں فرماں روا اور اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر تھا۔ وہ شہر حیدر آباد (آندھرا پردیش کا بانی بھی تھا۔ محمد قلی قطب شاہ پر مونوگراف مسعود صاحب نے ساہتیہ اکیڈمی (نئی دہلی ) کی فرمائش پر تحریر کیا تھا جو 1989 ء میں شائع ہوا ۔ اس مونوگراف میں مسعود صاحب نے گولکنڈہ کی تاریخی و تہذیبی پس منظر اور محمد قلی قطب شاہ کی تخت نشینی اور حکمرانی ، اور اس کی سیرت وشخصیت سے لے کر اس کی شاعری اور زبان تک کا نہایت دقت نظر کے ساتھ تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے، اور آخرمیں اس کے کلام کا انتخاب بھی دیا ہے۔ ہر چند یہ ایک مختصر سی کتاب ہے، لیکن محمد قلی قطب شاہ، اس کے عہد اور اس کی شاعری کو سمجھنے میں ہماری خاطر خواہ مدد کرتی ہے۔ اسے دکنیات میں ایک گراں قدر اضافہ تصور کرنا بے جا نہ ہو گا۔اردو زبان وادب کی تاریخ میں راقم السطور کو ایسی کوئی مثال نظر نہیں آتی جس میں ایک ہی شخص میں صفات کمالات مجتمع ہو گئے ہوں ، یعنی وہ بہ یک وقت وہ ادیب وانشاپرداز بھی ہو اور شاعربھی آغاز زبان اردو کا معتبر نظر یہ ساز بھی ہو اور محقق بھی ، اسلوبیاتی تنقید کا بنیاد گزار بھی ہو اور ادبی نقاد اور اقبال شناس بھی جس نے معیاری طرز پر تدوین متن کام بھی انجام دیا اور اور لغت بھی تیار کیا اور جو ماہر لسانیات وصوتیات ہی ہو اور ماہر دکنیات بھی ، جس نے ادبی صحافت کی بے گراں خدمات انجام دی ہو اور اردو تحریک کا فعال قلم کار بھی ہو، علاوہ ازیں جو ایک بہترین آپ بیتی نگار بھی ہو اور خاکہ نگار ہی۔ پروفیسر مسعود حسین خان بلا شبہ متذکرہ تمام صفات و کمالات سے متصف تھے۔ اردو زبان وادب کی تاریخ میں شائد ہی کوئی ان کا ہم سر یا ثانی ہو فراق گورکھپوری نے یہ مصرع خواہ کسی سیاق و سباق میں کہا ہو ، مسعود حسین خان پر پوری طرح صادق آتا ہے،

ع تیرا ثانی نہیں کوئی نہ کوئی تیری مثال