Friday, September 26, 2025

آغا خان اسکول نظام آباد کے طلبہ قدیم کی اساتذہ سے ملاقات یادگار تہنیتی تقریب۔رپورتاژ پروفیسر محمد اسلم فاروقی

 

آغا خان اسکول نظام آباد کے طلبہ قدیم کی اساتذہ سے ملاقات یادگار تہنیتی تقریب

چالیس سال کے عرصے بعد بھی طلبہ قدیم اپنے معمار اساتذہ کو نہیں بھولے۔

رپورتاژ: پروفیسر محمد اسلم فاروقی

پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد










             علم روشنی ہے جس سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں۔ یہی وجہہ ہے کہ قرآن کی پہلی وحی کی پہلی آیت کی ابتدا اقرا یعنی پڑھو سے ہوئی ہے۔ اور احادیث میں بھی علم کے حاصل کرنے کو فرض اور گود سے گور تک علم کا سلسلہ جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تیز رفتار ترقی کرتی دنیا میں روزآنہ کی بنیاد پر ہورہی تبدیلیوں سے واقفیت رکھنا بھی علم کا ہی حصہ ہے۔ انسان اپنے اطراف کے ماحول سے باخبر رہے تو وہ اپنی زندگی بہتر طور پر گزار سکتا ہے اور اپنے افراد خاندان اور معاشرے کے لیے بھی ایک اچھا فرد بن سکتا ہے۔ ایک بچے کے لیے ماں کی گود پہلی درسگاہ ہوتی ہے جہاں وہ ماں کے دودھ کے ساتھ علم و تہذیب کے ابتدائی باب سیکھتا ہے۔ گھر بچے کو ابتدائی معلومات فراہم کرتا ہے۔ بچہ جب چار یا پانچ سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اسے کسی درسگاہ میں داخل کرادیا جاتا ہے جہاں وہ اساتذہ ساتھیوں اور کتابوں کے ذریعے علم کے ابتدائی مدارج سیکھتا ہے۔ کسی بھی بچے کی زندگی میں اس کا پہلا اسکول اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیوں کہ یہی اسکول اس کی تعلیم کی بنیاد رکھتا ہے جس پر چل کر ایک بچہ اپنے آگے کے علمی مدارج طے کرتا ہے اور پھر اپنی صلاحیت اور اساتذہ کی تربیت سے وہ ترقی کی راہیں طے کرتا ہوا ملک و بیرون ملک اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتا ہے۔ شہر نظام آباد شمالی تلنگانہ کا اہم ضلع ہے۔ نظام دور حکومت سے ہی اس شہر کو تہذیبی اور تاریخی اہمیت حاصل ہے۔ نظام آباد سے قریب شکر نگر واقع ہے جہاں نظام دور حکومت میں ایشیا کی مشہور شوگر مل نظام شوگر فیکٹری قائم تھی۔ نظام ساگر ذخیرہ آب بھی نظام آباد سے قریب ہے۔ اورنگ زیب جب اپنی افواج کے ساتھ جنوب کے سفر پر تھا تو اس نے بودھن کے علاقے میں شب بسری کی تھی۔ جب اس کی تہجد اور فجر کی نماز قضا ہوئی تو اس نے کہا تھا ایں جائے بودنیست یعنی یہ جگہ اس کے لیے نحوست والی ثابت ہوئی۔ کیوں کہ زندگی میں کبھی اورنگ زیب کی نماز قضا نہیں ہوئی تھی۔ نظام آباد تا حیدرآباد ریل لائن بھی نظام دور حکومت میں بچھائی جاچکی تھی۔ نظام آباد میں آزادی کے فوری بعد یعنی ۱۹۵۴ میں وہاں موجود کھوجہ برادری کی جانب سے آغا خان سوسائٹی کی جانب سے ایچ ایچ دی آغاخان اسکول قائم کیا گیا۔ آغا خان سوم سر سلطان محمد شاہ کی جانب سے آغا خان ایجوکیشن سروسز نام کے ادارہ کا قیام عمل میں لاتے ہوئے مختلف ایشیائی ممالک بالخصوص پورے برصغیر ہند و پاک میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز آزادی سے قبل کر دیا. اسی سلسلہ کی ایک کڑی نظام آباد میں قائم ایچ ایچ دی آغا خان اپر پرائمری اسکول ہے اس کا قیام سن 1954ء میں عمل میں آیا. جس کے قیام کا مقصد نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا تھا. اپنے قیام کے چند سال میں ہی اسکول شہر کے نامور تعلیمی ادارے میں شامل ہو گیا. شہر کا بہترین اسکول کا درجہ دلانے میں اسکول کے اساتذہ کرام کا اہم رول تھا. کہا جاتا ہے کہ اس اسکول کے ابتدائی اساتذہ میں جناب عبدالرزاق صاحب، سلام صاحب،عابدہ ٹیچر وغیرہ تھے۔ بعد میں جناب رشید حسینی، جناب مظہر فاروقی، جناب سید یعقوب علی، جناب عبدالماجد صاحب، جناب عبدالجبار صاحب،جناب خواجہ فہیم اللہ صاحب، جناب عسکری حسین عسکر صاحب، جناب اکبر علی دامانی صاحب، عبدالعزیز صاحب، محترمہ میمونہ صاحبہ، محترمہ حبیب النسا صاحبہ، محترمہ اقبال تقی صاحبہ، محترمہ نکہت صاحبہ اور دیگر نے اپنی خدمات سے اس اسکول کو ایک مثالی اسکول بنادیا۔ اسکول کا ذریعہ تعلیم اردو میڈیم سے تھا۔ اس اسکول سے سنہ ۷۰ تا سنہ ۹۰ کی دہائیوں میں تعلیم حاصل کرکے آگے بڑھنے والے طالب علموں کی ایک کثیر تعداد نے زندگی کے عملی میدان میں کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ یہ اسکول ۹۰ کے بعد گولڈن جوبلی اسکول میں تبدیل ہوگیا ۔ اس اسکول کے فارغین میں  ڈاکٹر محمد احسن فاروقی جو اب نظامیہ طبی کالج میں پروفیسر معالجات اور حجامہ طریقہ علاج کے ماہر ہیں۔ راقم محمد اسلم فاروقی نے یونیورسٹی آف حیدرآباد سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور اب پروفیسر اردو اور پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد کے عہدے پر فائزہ ہوں۔ اسکول کے فارغ ایک طالب علم ابو بکر نے ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کی اور بیرون ملک اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اقبال ٹیچر کے فرزند رضی الدین اسلم اب جونیر کالج بالکنڈہ کے پرنسپل ہیں۔اقبال ٹیچر کی دختر محترمہ انجم گورنمنٹ اسکول ٹیچر ہیں۔ میمونہ ٹیچر کی بھتیجی محترمہ امۃ الرحیم غزالہ اچم پیٹ جونیر کالج کی پرنسپل ہیں۔ میمونہ ٹیچر کے فرزندشاکر ڈیر ی کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کی دختران اسما عاصمہ سیما عذرا سبھی نے اس اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ اسما اور عذرا ان دنوں امریکہ میں مقیم ہیں۔اسکول کے مشہور استاد محترم یعقوب علی صاحب کے فرزندسید مجیب علی نظام آباد اور تلنگانہ کے ماہر تعلیم ہیں جو آغا خان اسکول سے فارغ ہیں انہوں نے اپنے والد کے مشورے پر خود کے تعلیمی ادارے کھولے اور اب ڈائرکٹر نالج پارک اسکول اور کریسنٹ انگلش میڈیم و اردو میڈیم اور کریسنٹ جونیر کالج نظام آباد کے بانی ہیں۔ یعقوب صاحب کے ایک فرزند سید ایوب علی ماہر تعمیرات اور تاجر ہیں جب کہ ان کے ایک اور فرزندسید نجیب علی نظام آباد کے نامور سیاست دان صحافی اور اردو اکیڈیمی کے سابق رکن بورڈ آف گورنرس ہیں۔ اسکول سے فارغ میرے ہم جماعت اسلم لوہیا نظام آباد کے نامور ایڈوکیٹ ہیں۔ اسکول سے فارغ ہونے والے طلبا میں اطہر معین صحافی، حلیم قمر سیاست دان، ایس اے کریم تاجر، ناظم الدین سماجی کارکن، عبداللہ اقبال شاعر و تاجر، عبدالعزیز بداوی تاجر، عبدالرحمٰن بداوی تاجر، جاوید ‘ندیم‘ جلیل، شکیل سلام زردہ برادرس،عادل سید دادے علی، رشید، سلام، اشرف حنانی،فاروق حنانی، امتیاز ڈاکٹر، منیر برادرس،مجید عارف، محمد صمیم صحافی، ماجد لنک کمپیوٹر،مجید عارف سعودی عرب بانی مائی نظام آباد ویب سائٹ، مقیت کارپوریٹر، محمد اسد فاروقی،محمد اکرم فاروقی سعودی عرب، ستار خان محفل ہوٹل، ستار مجاہد ،رفیق شاہی صحافی، عبدالباری مجاہد اور دیگر سینکڑوں طالب علم ہیں جنہیں احساس تھا کہ ہم جس مادر علمیہ آغا خان اسکول سے فارغ ہوئے ہیں اور دنیا کے عملی میدان میں ترقی حاصل کیے ہیں ہم اپنے اساتذہ کو یاد کریں۔ اور ان سے اظہار تشکر کے طور پر ایک تہنیتی تقریب منعقد کریں۔ اس کے لیے ایڈوکیٹ اسلم لوہیا اور رضی اسلم کی کاوشوں سے سب سے پہلے ایک واٹس گروپ آغا خان اسکول کے نام سے شروع کیا گیا۔ اور اس گروپ میں اسکول سے فارغ طلبہ کو شامل کیا جانے لگا۔ اسکول کے سابق طلبہ نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی اس کوشش کا خیر مقدم کیا۔ اور بہت جلد دو سو سے زائد سابق طلبہ اس گروپ میں شامل ہوگئے۔ کچھ سرگرم طلبہ روز گروپ میں ایک دوسرے سے سلام علیک کرتے ہیں اپنے تاثرات پیش کرتے ہیں۔ گروپ کی رکن محترمہ غزالہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے مرحوم اساتذہ کے نام لکھ کر ان کے حق میں دعائے مغفرت پیش کرتی ہیں۔ گروپ کے قیام کے تقریبا ایک سال بعد کچھ سرگرم سابق طلبہ آغا خان اسکول جن میں سید مجیب علی نالج پارک، محمد صمیم صحافی ، اسلم لوہیا ایڈوکیٹ، رضی اسلم پرنسپل ِ، عبداللہ اقبال شاعر، عبدالعزیز اور دیگر نے بالاخر مشورے سے طے کیا کہ ۲۱ ستمبر بروز اتوار صبح ۱۱ بجے تہنیتی تقریب رکھی جائے۔ اس کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مشورے ہوئے۔ اسکول کے باحیات اساتذہ جناب مظہر فاروقی حال مقیم حیدرآباد، جناب ماجد صاحب، جناب عبدالعزیز صاحب ریاستی صدر ایم پی جے محترمہ اقبال ٹیچر اور محترمہ حبیبہ ٹیچر سے رابطہ کیا گیا سب نے اس تہنیتی تقریب میں شرکت کی توثیق کی۔ ملک و بیرون ملک سابقہ طلبہ نے اس تقریب کے انعقاد کے لیے نیت خواہشات کا اظہار کیا۔ اور مالی عطیات بھی فراہم کیے، جناب سید مجیب علی صاحب نے نالج پارک کے آڈیٹوریم کو اس تہنیتی تقریب کے لیے استعمال کی اجازت دی۔ تہنیتی تقریب کے لیے اساتذہ کو مومنٹو دیا جانا طے پایا شال پوشی گول پوشی اور تحائف کی ذمہ داریاں طے پائیں۔ محمد صمیم عبداللہ اقبال عبدالعزیز اسلم لوہیا رضی اسلم نے دعوت ناموں کی اشاعت تہنیتی تقریب کے ظہرانے کے انتظامات اور تمام امور طے کیے۔ واٹس اپ گروپ بھی سرگرم رہا ۔سابقہ طلبہ نے اپنی شرکت کی توثیق کی اور تمام انتظامات کے بعد ۲۱ ستمبر بروز اتوار صبح ساڑھے گیارہ بجے آغا خان اسکول کے سابقہ طلبہ کے لیے وہ یادگار لمحہ آہی گیا جب کہ وہ چالیس سال قبل جن اساتذہ کی تربیت میں رہے انہیں باحیات اپنے روبرو دیکھنے کا موقع ملا ان کی نصیحتیں سننے اور دعائیں لینے کا موقع ملا۔ میں بھی علی الصبح حیدرآباد سے نکل کر وقت پر نظام آباد پہنچ گیا۔ صمیم سے مسلسل رابطہ رہا۔ مجھے پروگرام کی نظامت کرنے کا موقع دیا گیا۔ جیسے ہی میں اپنی بہن اور اسکول کی سابقہ طالبہ شہناز نسرین صاحبہ کے ہمراہ نالج پارک اسکول پہنچا وہاں ہماری پھوپھو محترمہ ساجدہ نسیم جو نکہت ٹیچر کی ہم جماعت تھیں اپنی بیٹی اور اسکول کی سابقہ طالبہ بلقیس بیگم نالج پارک میں جلسہ گاہ کی طرف رواں دوں نظر آئیں۔ صمیم اور عبدالعزیز، اور بعد میں اسلم لوہیا ایڈوکیٹ، رضی اسلم اور دیگر طلبہ قدیم اور جلسہ کے منتظمین سے ملاقات ہوئی۔ جلسے میں شرکت کے لیے مظہر فاروقی صاحب رات میں ہی اپنے افراد خاندان کے ساتھ نظام آباد پہنچ گئے تھے۔ جناب مجیب صاحب مظہر فاروقی صاحب کے ساتھ جلسہ گاہ پہنچ گئے۔ جناب عبدالعزیز صاحب جناب ماجد صاحب نکہت ٹیچر اور اقبال ٹیچر بھی اپنے افراد خاندان کے ساتھ جلسہ گاہ پہنچ گئے۔ یہ منظر بڑا ہی جذباتی تھا جب سابقہ طلبہ اپنے اساتذہ کو جھک جھک کر سلام کر رہے تھے اور اساتذہ انہیں پہنچانتے ہوئے مسرت کا اظہار کر رہے تھے۔ جلسہ گاہ میں بہت کم وقت میں سابقہ طلبہ مرد و خواتین کی کثیر تعداد جمع ہوگئی۔سابقہ طلبہ کے ہاتھ میں مائک دیا گیا کہ وہ اپنا نام ساتویں جماعت کا سال اور موجودہ مصروفیت بیان کریں۔ طلبہ نے جوش و خروش سے مسرت کے ساتھ اپنا تعارف پیش کیا۔ جو طلبہ جلسے میں شریک نہ ہوسکے گوگل فارم کے ذریعے ان کی تفصیلات لی گئیں اور دوران تقریب ان کے احوال پیش کیے گئے۔ جلسے کی کاروائی آغا خان اسکول کے سابقہ طالب علم حافظ صدیق برادر ڈاکٹر ابوبکر کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ اساتذہ کرام جناب ماجد صاحب مظہر فاروقی صاحب عبدالعزیز صاحب نکہت ٹیچر اقبال ٹیچر کو تالیوں کی گونج میں شہ نشین پر مدعو کیا گیا۔ پچھلی نشست پر اسکول کے مرحوم اساتذہ جناب سید رشید حسینی صاحب جناب عبدالجبار صاحب سید یعقوب علی صاحب خواجہ فہیم اللہ عابدہ ٹیچر حال مقیم کراچی کے اہل خانہ فرزندان اور دیگر کو بٹھایاگیا۔ مائک پر اعلان ہوا کہ اس تقریب میں ہمیں اپنے مرحوم اساتذہ کو بھی یاد رکھنا ہے اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنی ہے۔ تقریب کے پہلے حصے میں اسکول کے سابقہ طلبہ کی جانب سے تاثرات کی پیشکشی کا سلسلہ شروع ہوا۔ رضی الدین اسلم نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور اس تقریب کے انعقاد کے اغراض و مقاصد بیان کیے کہ آغا خان اسکول کے سابقہ طلبہ کا ہمیشہ یہ تاثر رہا ہے کہ ان کی ترقی میں ان کے پرائمری اسکول کے اساتذہ کی تربیت شامل حال رہی اور طلبہ چاہتے تھے کہ ان کے اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ رضی نے اسکول کی یادوں کو بیان کیا۔ رضی کی بہن انجم نے اسکول کی یادوں جناب یعقوب صاحب جناب ماجد صاحب جناب عسکری صاحب میمونہ ٹیچر نکہت ٹیچر اور دیگر کے پڑھانے کے اندازہ اسکول کے کمرہ جماعت اور اسکول کی سرگرمیوں کو دلچسپ انداز میں پیش کیا۔ اسکول کے باہر چنے بیچنے والے کے گیت چنا جور گرم بابو کو یاد کیا گیا۔ اسکول کے ملازم جناب پاشا ہ بھائی کو بہت یاد کیا گیا جو گھنٹی مارنے کے علاوہ چھٹی کے اعلان کا رجسٹر لاتے تھے جس پر طلبہ مسرت کا اظہار کرتے تھے۔ اسلم لوہیا ایڈوکیٹ صمیم عبداللہ اقبال،عبدالرحمن بازراہ، عبدالعزیز،ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی ، سید مجیب علی، عبدالباری مجاہد ،ایس اے کریم تاجر اور دیگر نے مخاطب کیا۔ اور اساتذہ سے اپنے تعلق اپنی شفقت کا بھرپور اظہار کیا۔ سابقہ طلبہ کی تقاریر کے بعد اساتذہ کی تہنیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور مرحلہ وار جناب ماجد صاحب، جناب مظہر فاروقی صاحب، جناب عبدالعزیز صاحب، نکہت ٹیچر اقبال ٹیچر اور مرحوم اساتذہ کے افراد خاندان کو گلپوشی شال پوشی اور مومنٹو کے ذریعے تہنیت پیش کی گئی۔ ڈاکٹر ابوبکر نے اساتذہ کے لیے شوگر ٹیسٹ کٹ پیش کیے۔ ایس اے کریم تاجر نے تحائف دئیے۔ اسلم لوہیا ایڈوکیٹ کی جانب سے تحفہ پیش کیا گیا۔ سابقہ طلبہ نے گروپ بنا کر اساتذہ کو تہنیت پیش کی۔ تہنیت کا یہ سلسلہ ایک گھنٹہ چلتا رہا۔ دو گھنٹے بعد بھی طلبہ اور اساتذہ بغیر کسی بے چینی کے ہال میں بیٹھے رہے تاکہ اپنے اساتذہ کے تاثرات اور نصیحتیں سنیں۔ انتظامیہ نے موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے اسنیکس اور ملک شیک کا انتظام سبھی شرکا کے لیے کیا۔ اعلان ہوا کہ تقریب کے انعقاد کے بعد مسجد یعقوب میں نماز ظہر ادا کی جائے گی اور اس کے بعد نالج پارک سے متصل گیسٹ ہائوز میں سب کے لیے ظہرانے کا انتظام رہے گا۔ محترمہ نکہت ٹیچر نے اشعار کی لڑی پروتے ہوئے جذباتی انداز میں تقریر کی اور آغا خان اسکول سے اپنی وابستگی اور سینکڑوں شاگردوں کی تربیت اور ان کے لیے دعائوں اور دین و دنیا کی ترقی کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کی یادگار تقریب ہے کہ چالیس سال بعد طلبہ نے اپنے اساتذہ کو یاد رکھا۔محترمہ اقبال ٹیچر نے طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور اس تقریب کے انعقاد کے لیے اظہار تشکر کیا۔ جناب ماجد صاحب نے خرابی صاحب اور ضعیفی کے باوجود تین گھنٹے تقریب میں شرکت کی اور اپنے خطاب سے طلبا کو مستفید کیا اور انہیں دعائیں پیش کیں۔ جناب عبدالعزیز صاحب اسکول کے زمانے سے شعلہ بیان مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تقریب مرحوم اساتذہ کے لیے اظہار تعزیت اور موجود اساتذہ کو تہنیت پیش کرنے کے لیے رکھی گئی انہوں نے والدین کی جدائی کو بڑی محرومی قرار دیا اور کہا کہ آغا خان اسکول کے اساتذہ سے مجھے پڑھنے اور اسکول میں کام کرنے کا موقع ملا یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ جناب مظہر فاروقی نے کہا کہ نظام آباد میرے لیے ہمیشہ محترم رہا ہے جہاں انہوں نے ملازمت کا آغاز کیا اور مولانا آزاد اردو یونیورسٹی تک ترقی کے مراحل طے کیے انہوں نے کہا کہ مجیب میرے وہ شاگرد ہیں جنہیں پہلی جماعت اور پی ایچ ڈی میں داخلہ دلانے کا انہیں شرف حاصل ہوا انہوں نے تمام طلبہ قدیم کو مبارکباد پیش کی۔ تہنیتی تقریب کو نظام آباد کے مشہور صحافیوں امیر جرنلسٹ اور خالد خان نے اپنے فیس بک پر براہ راست پیش کیا اور دنیا بھر سے اسکول کے طلبہ قدیم اور دیگر لوگوں نے تقریب کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ تاثر پیش کیا کہ اپنے قدیم اساتذہ کی تہنیت کے لیے ایسی یادگار تقریب پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ طلبہ نے اپنے اساتذہ کے ساتھ ظہرانے میں شرکت کی جس میں لذیذ پکوان میٹھے اور چائے کا انتظام کیا گیا تھا۔ سابقہ طلبہ نے ایک دوسرے سے ملاقات کی اور اسکول کی یادوں کو دہرایا اور کہا کہ اس طرح ملتے رہنا چاہئے۔ راقم ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے تجویز پیش کی کہ سابقہ طلبہ زندگی کے مختلف میدانوں میں ترقی حاصل کیے ہیں کیوں نہ اسکول کے نام پر ایک تعلیمی و سماجی ٹرسٹ قائم کیا جاے اور ہر سال اس طرح ایک تقریب رکھ کر ضرورت مند طلبہ کی مالی مدد کی جائے اس تجویز کو پسند کیا گیا اور طلبہ نے اس پر کام کرنے کا تیقن دیا۔ تقریب کے اختتام پر طلبہ نے اپنے اساتذہ سے دعائیں لیتے ہوئے انہیں ان کے تحائف کے ساتھ رخصت کیا۔ اسلم لوہیا ایڈوکیٹ نے اس تقریب کی ویڈیو ریکارڈنگ کروائی جسے بہت جلد یوٹیوب پر پیش کیا جائے گا۔ تقریب کے دوسرے دن اردو اخبارات میں تقریب کی روداد شائع ہوئی جسے دنیا بھر میں پڑھا گیا اور آغا خان اسکول کے واٹس اپ گروپ میں ابھی تک اس تقریب کی کامیابی کے چرچے ہیں۔ نکہت ٹیچر نے بہت سے سابقہ طلبہ کو فون کرکے انہیں مبارکبادی اور تہنیت کے لیے اظہار تشکر کیا۔ اس تقریب مین نکہت ٹیچر کے شوہر ان کے بیٹے اور پوتی نے شرکت کی اور انگریزی میں اظہار خیال کیا۔ تقریب کے بعد سابقہ طلبا نے گروپ فوٹو لیے اور جناب مجیب صاحب سے نالج پارک آڈیٹوریم میں تقریب کے کامیاب انعقاد کے لیے اظہار تشکر کیا۔ اس طرح آغا خان اسکول اردو میڈیم کے سابقہ طلبہ کی یہ تقریب نظام آباد کے سماجی حلقوں میں ایک یادگار تقریب کے طور پر مشہور ہوگئی۔

Saturday, June 14, 2025

نمک کی اہمیت. پروفیسر محمد اسلم فاروقی

 

نمک کی اہمیت

پروفیسر محمد اسلم فاروقی

 


             غذاکے معاملے میں بنیادی طور پر انسان کو ذائقہ دار چیزیں پسند ہیں۔ زبان ہر قسم کے ذائقے کو چکھنا چاہتی ہے۔ اور غذاؤں کوذائقہ دار بنا نے والی ایک بنیادی چیز نمک ہے۔ نمک چونکہ دنیا کے انسانوں کو کم خرچ پر اور با آسانی دستیاب ہوجاتا ہے۔ لہذا اس کی قدر نہیں کی جاتی لیکن نمک کی اہمیت کا اندازہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب بھولے سے کسی پکوان میں نمک نہیں پڑتا اور صرف نمک نہ ہونے کی وجہہ سے پکائی ہوئی قیمتی سے قیمتی شئے کا ذائقہ کم ہو جاتا ہے۔ بچوں کی ایک کہانی بھی مشہور ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنی اولاد سے پوچھا کہ وہ مجھے کس چیز سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں تب بادشاہ کی ایک بیٹی نے جواب دیا کہ آپ مجھے نمک سے زیادہ عزیز ہیں۔ بادشاہ کو یہ بات مضحکہ خیز لگی۔ کہ اسے نمک جیسی حقیر شئے پر فوقیت دی گئی جب کہ اس کی دوسری اولادوں نے قیمتی اشیاء پر اسے فوقیت دی تھی۔ بادشاہ کی لڑکی نے مناسب موقع پر اس بات کو سمجھانے کا وعدہ کیا۔ ایک دفعہ پڑوسی ملک کا بادشاہ اس بادشاہ کا مہمان بنا۔ اتفاق سے پکوان کی ذمہ داری بادشاہ کی اسی لڑکی نے سنبھالی جس نے اپنے باپ کو نمک پر فوقیت دی تھی۔ لڑکی نے جان بوجھ کر سارے پکوان بغیر نمک کے پھیکے بنائے۔ پھیکے کھانوں کی دعوت سے بادشاہ کی سبکی ہوئی تب لڑکی نے سمجھا یا کہ حقیر سمجھے جانے والے نمک کی کیا اہمیت ہے نمک قدرتی طور پر دنیا کے ہر علاقے میں پایا جاتا ہے۔نمک کا بڑا ذخیرہ سمندر کے کھارے پانی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ سمندروں کے ساحل پر وسیع حوض تعمیر کئے جاتے ہیں۔ جس میں سمندر ی پانی کو سکھا کر نمک حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نمک پہاڑوں اور چٹانوں کو کاٹ کر اور زمین کی سطح سے بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ خالص نمک کوسوڈیم کلورائیڈ کہتے ہیں لیکن معدنی نمک میں بے شمار معدنیا ت جیسے سوڈیم سلفیٹ‘ کیلشیم کلورائیڈ وغیر ہ شامل ہوتے ہیں۔ نمک ایک ٹھوس اور ذائقہ دار شئے ہے۔ اس کا ذائقہ کھارایا نمکین ہوتا ہے۔ ٹھوس نمک کو پیس کر اس کا سفوف بنایا جاتا ہے۔خالص نمک کی یہ نشانی ہے کہ وہ پانی جذب نہیں کرتا۔ سمندروں یا چٹانوں سے حاصل ہونے والے نمک میں میگنیشیم کلورائیڈ شامل ہوتا ہے۔ اس لئے اس میں نمی جذب ہوتی ہے۔ صاف کئے ہوئے نمک کارنگ انتہائی سفید ہوتا ہے جب کہ ہندوستانی نمک میں سرخ اور گلابی رنگ کا شائبہ ہوتا ہے۔ انسانی اور حیوانی زندگی کے لئے نمک بے حد ضروری ہے۔

            طبی لحاظ سے نمک کی اہمیت کا انداز ہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انسان کو نمک کے استعمال سے روک دیا جائے تو وہ گھل گھل کر مر جائے گا۔ اسی طرح اگر جانوروں کو نمک کے استعمال سے روکا جائے تو وہ بیمار ہو کر ہلا ک ہو جاتے ہیں۔ بہت سے جانور نمکین پودے کھا کر اپنے جسم کے لئے درکار نمک کی مقدار حاصل کرتے ہیں۔

            انسانوں اور حیوانوں کے جسم میں طبعی طور پر نمک کی ایک خاص مقدار ہر وقت موجود رہتی ہے۔ اگر اس میں کمی ہو جائے تو صحت خراب ہو جاتی ہے۔ طبی تحقیق  کے مطابق انسان کو یومیہ کم از کم 1/21  اونس نمک ضرور استعمال کرنا چاہئے۔ گرم اور شدید آب و ہوا والے علاقہ میں کم از کم یومیہ ایک اونس نمک استعمال کرنا چاہئے کیونکہ گرمی کے سبب پسینے کے ذریعہ تیزی سے انسانی جسم سے نمک خارج ہو تا رہتا ہے۔ موسم گرما میں مشروبات میں ایک چمچ شکر کے ساتھ ایک چٹکی نمک لینا مناسب ہوگا یا گلوکوس کا پانی پابندی سے پینا چاہئے۔ نمک اور پانی کی کمی کاشکار ہو کر موسم گرما میں لولگنے سے کئی لوگ بیمار پڑجاتے ہیں اور ان میں سے چند موت کاشکار بن جاتے ہیں۔ لہذا ایسے لوگوں کو فوری طبی امداد حاصل کرنے اور گلو کوس لگوانے کی فکر کرنا چاہئے۔ نمک کی زیادتی بھی انسان کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ اس سے خون کا دباؤ (Blood Pressure) بڑھ جاتا ہے اور اختلاج قلب اور دل کے دوسرے عوارض پیدا ہو جاتے ہیں۔ لہذا عمر رسیدہ افراد کو نمک کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہئے۔

            دنیا کی تاریخ جتنی پرانی ہے نمک کے استعمال کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے۔ قدیم پتھر کے زمانے میں جب انسان نے جانوروں کا شکار کرنا سیکھ لیا تھا تب وہ کچا گوشت ہی چبا کر کھاجاتا تھا۔ آگ کی ایجاد کے بعد اس نے گوشت کو بھون کر کھانا سیکھ لیا تھا۔ تب وہ کچا گوشت ہی چبا کر کھاجاتا تھا۔ آگ کی ایجاد کے بعد اس نے گوشت کو بھون کر کھانا سیکھا۔ نمک دریافت ہوا تو انسان نے گوشت کو نمک لگا کرکھانا سیکھا۔ یہیں سے اس کی غذا میں ذائقہ شامل ہونے لگا۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نمک کو سب سے پہلے چین والوں نے دریافت کیا۔ اس زمانے میں نمک کے حصول کا واحد ذریعہ سمندر تھے۔ قدیم یونانی لاطینی‘ سنسکرت کتابوں میں نمک کے استعمال کے واقعات ملتے ہیں۔ مصر کے لوگ اپنے مردوں کے جسموں کو نمک لگا کر محفوظ کیا کرتے تھے۔ فرعون مصر کی حنوط شدہ لاش آج بھی محفوظ ہے۔ اس کی حفاظت کے لئے استعمال کئے جانے والے مصالحوں میں اہم جز و نمک بھی ہے ہر زمانے میں مذہبی اعتبار سے بھی نمک کو اہمیت حاصل رہی ہے۔

            2000 ق  م  میں چین کے بادشا”یو“ کے عہد میں نمک کو بڑا مقدس خیال کیا جاتا تھا۔ اور دیوتاؤں کے حضور پیش کی جانے والی قربانی کے گوشت کو نمک لگایا جاتا تھا۔  1100ق  م  میں یونان میں تھیوگورس کے عہد میں نمک کو امن اور انصاف کے دیوتا کا مقام حاصل تھا۔ قدیم زمانے میں ہندو بھی نمک کو پوتر (پاک) چیز تصور کرتے تھے۔ عیسائی نمک کو وفاداری اور عقل مندی کا نشان تصور کرتے ہیں۔ یہودی نمک کو میثاق یا معاہدہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے آپس میں اس کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اسلام میں بھی نمک کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نمک سے روزہ کھولنے کو افضل بیان کیا گیا ہے۔ صاحب جامع کبیر نے حضرت علی ؓسے روایت نقل کی ہے کہ حضوراکرم  ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے علیؓ کھانا نمک کے ساتھ شروع کرنا چاہئے اس میں سترا مراض سے شفارکھی گئی ہے۔ جس میں جنون‘ جذام‘ پیٹ درد‘ دانت درد  وغیرہ شامل ہیں۔ حضور ﷺ کھیرے کو نمک کے ساتھ تناول فرمایا کرتے تھے۔ نمک کے نام کے ساتھ ایفائے عہد‘ وفاداری وغیرہ کے محاورے اردو ادب میں ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں۔ وفاداری نبھانے والے کو نمک حلال اور غداری کرنے والے کو نمک حرام کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ نمک کھانا نمک کا حق ادا کرنا وغیرہ محاورے بھی مشہور ہیں۔ نمک غذا میں استعمال ہونے کے علاوہ دیگر اشیا کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس سے ایش سوڈا‘ کاسٹک سوڈا‘ سالٹ کیک‘ صابن‘ گلیسرین‘ بارود‘ بلیچنگ پوڈر اور ہائیڈروکلورک ایسڈ بنتے ہیں۔ نمک جانوروں کی کھال سکھانے کھاد بنانے‘ مچھلی کو محفوظ کرنے کے کام بھی آتا ہے۔ آج کل طبی ماہرین بچوں اور حاملہ خواتین کو آیوڈین ملے نمک کے استعمال پر زور دے رہے ہیں تاکہ بچوں کو مختلف امراض سے بچایا جاسکے۔ مختلف زبانوں میں نمک کے مختلف نام ہیں۔ اسے اردو اور فارسی میں نمک‘ عربی میں ملح‘ ہندی اور تلگو میں نون‘ انگریزی میں سالٹ کہا جاتا ہے۔ نمک کا سائنسی نام سوڈیم کلورائیڈ (NaCl) ہے۔ غرض نمک خدا کی جانب سے انسانوں کو عطا کر دہ ایک عظیم نعمت ہے۔ جس پر انسان کو اپنے خدا کا شکر گذار ہونا چاہئے اور نمک کی قدر کرنا چاہئے۔

٭٭٭

پانی کی حفاظت کا نظام قدرت.پروفیسر محمد اسلم فاروقی

 

پانی کی حفاظت کا نظام قدرت

پروفیسر محمد اسلم فاروقی

           خالق کائنات نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اسے بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا تاکہ انسان ان نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی زندگی پر سکون انداز میں بسر کرے اور ان نعمتوں کے عطا کرنے والے رب کا شکر گذار بند ہ بنے انسان کو حاصل ہونے والی بے شمار نعمتوں میں ایک نعمت پانی ہے۔ ایک لحاظ سے انسان کی سب سے اہم ضرورت پانی ہے۔ پانی نہ صرف انسان کے پینے کے کام آتا ہے بلکہ اس کی غذائی اجناس کی پیداوار میں معاون ہوتا ہے۔ پانی سے انسان اپنے جسم کی اپنے گھر اور ماحول کی گندگی کو دور کرتا ہے۔ پانی انسان کو سال کے بارہ مہینے درکار ہوتا ہے جب کہ پانی کے حصول کا اہم ذریعہ یعنی بارش سال کے مخصوص ایام میں مخصوص مقامات پر ہوتی ہے۔ چنانچہ قدرت نے انسان کی اس اہم ضرورت کی حفاظت کا انتظام بھی فرمادیا۔ انسانی زندگی کے لئے اہم چیزیں جیسے ہوا‘ پانی اور روشنی کو خدا نے وافر مقدار میں اور مفت فراہم کیا ہے۔ یہ خدا کی حکمت ہے کہ جس چیز کی اہمیت اور ضرورت زیادہ ہے اسے عام کردیا۔ کرہ ارض کا دو تہائی حصہ سمندر وں کی شکل میں۔ کھارے پانی پر مشتمل ہے۔ راست طور پر یہ کھارا پانی انسان کے لئے قابل استعمال نہیں لیکن اس کھارے پانی کے بھی اپنے بہت سے فائدے ہیں اور اسی پانی کے ذریعہ انسان کے لئے ضروری میٹھا پانی حاصل ہوتا ہے۔ کھارے پانی سے میٹھے پانی کا حصول اس طرح ہوتا ہے۔ کہ شدید گرمی کے سبب سمندر کا پانی بخارات بن کر اوپر فضاء میں اڑجاتا ہے‘ پانی کے یہ بخارات بادل کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور ہوا کے زور پر آگے بڑھتے ہیں اور مختلف جغرافیائی عوامل کے سبب ہوا میں درجہ حرارت کم ہونے پر آبی بخارات چھوٹے چھوٹے قطروں میں تبدیل ہو کر بارش کی شکل میں زمین پر گرپڑتے ہیں۔ بارش کا پانی میٹھا ہوتا ہے۔ اور یہ زمین پر بسنے والے انسانوں جانوروں اور پودوں کے لئے راحت و زندگی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ سمندر کے پانی کو خدا نے اپنی حکمت سے انتہائی کھارا اور نمکین بنایا ہے اس سے ہزاروں ٹن نمک نکالا جاسکتا ہے۔ کھارے پانی کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ اس میں چیزیں گل کر بھسم اور فنا ہو جاتی ہیں۔ سمندر چونکہ سطح زمین سے نیچے واقع ہوتے ہیں اس لئے اس میں ندی نالوں کے ذریعہ زمین پر بسنے والے انسانوں اور جانوروں کی گندگی جاگرتی ہے اور یہ گندگی سمندر کے کھارے پن کے سبب گل کر ختم ہو جاتی ہیں۔ سمندر میں خود زمین سے زیادہ مخلوقات پائی جاتی ہیں۔ اور یہ مخلوقات بھی ختم ہو کر سمندر کے پانی میں اس کے کھارے پن کے سبب گل جاتی ہیں۔ اگر سمندر کا پانی میٹھا ہوتا تو ندی نالوں کے ذریعہ اس میں شامل ہونے والی انسانوں کی گندگی اور اس میں موجود لاکھوں قسم کے جانوروں کے مرنے کے سبب پیدا ہونے والے تعفن کی بدبو اتنی شدید ہوتی  کہ خشکی پر رہنے والے انسانوں اور دیگر جانداروں کی تندرستی اور زندگی محال ہو جاتی۔

          اس طرح دیکھا جائے تو سمندر کا کھارا پن انسانوں کے حق میں بہتر ہے۔ اس کھارے پانی کو نہ پیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس سے پیاس بجھتی ہے۔ انسانی مزاج کی اسی فطرت کے پیش نظر قدرت نے کھارے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کر نے کا نظام چلایا۔ صرف بارش کے ہونے سے انسان کے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ پانی زندگی کی ایک ایسی ضرورت ہے جو ہر آن اور ہر دن پوری ہونی چاہئے۔ انسان کو پانی کی اس مستقل ضرورت کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر جگہ سال کے بارے مہینے ہر روز بارش ہوا کرتی رہے۔ لیکن اس سے موسمی توازن بگڑ جاتا۔ انسان کے مزاج کی یہ خصوصیت ہے کہ اسے سردی‘ گرمی اور بارش متوازن انداز میں ملے۔کسی بھی چیز کی زیادتی اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ اگر روز بارش ہونے لگے تو انسان کے پانی کا مسئلہ تو حل ہو جائے گا لیکن اس کی دیگر ضروریات کی تکمیل میں روزانہ کی بارش خلل ڈالے گی۔ چنانچہ خدا نے انسان کی اسی ضرورت کے پیش نظر بارش کے لئے ایک خاص موسم مقرر فرمایا۔ اب رہا مسئلہ کہ خاص موسم میں ہونے والی بارش کے پانی کو کس طرح محفوظ کیا جائے کہ سال بھر انسان کی پانی کی ضرورت کی تکمیل ہوتی رہے۔ اگر برتنوں اور ٹینکوں میں پانی کو جمع کرنا ہوتا تو سات آٹھ مہینوں کے لئے ہر انسان کی ضرورت کے مطابق پانی جمع کرنے کے لئے اسے سینکڑوں ٹینکوں کا استعمال کرنا پڑتا اور انہیں رکھنے کے لئے بہت بڑی جگہ کی ضرورت بھی پڑتی اور یہ مشاہدہ ہے کہ بارش زمین کے ہر حصہ پر متوازن نہیں ہوتی ہے۔ کہیں زیادہ  تو کہیں کم اور کہیں بالکل نہیں ہوتی۔ چنانچہ انسان کو پانی بھر بھر کر دور دراز علاقوں تک مشقت سے اٹھاکر لے جانا پڑتا۔ انسان کی اس دشواری کے پیش نظر خدا نے بارش کے پانی کی حفاظت کے مختلف انتظام فرمائے تاکہ دیگر موسموں میں بھی انسانوں اور دیگر جانداروں کو تازہ پانی ان کی ضرورت کے مطابق حاصل ہوسکے۔ بارش کے ذریعہ جو پانی زمین پر برستا ہے اس کا کچھ حصہ تو فوری طور پر درختوں‘ کھیتوں‘ جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرنے کے کام آتا ہے۔ اور کچھ حصہ زمین کے نشیبی علاقوں میں تالابوں میں اور جھیلوں کی شکل میں جمع ہو جاتا ہے اور کچھ حصہ زمین میں جذب ہوکر محفوظ ہو جاتا ہے۔ پانی کا ایک بڑا ذخیرہ پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں پر برفانی تودوں کی شکل میں منجمد ہو جاتا ہے۔ پانی چونکہ ڈھلان کی طرف بہتا ہے چنانچہ اونچی چوٹیوں پر برف کی شکل میں موجود پانی کا ذخیرہ سردی کے علاوہ دیگر موسموں میں پگھل کر بہتا ہوا دریاؤں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اور زمین کے ڈھلان پر بہہ کر آخرمیں انسان کی گندگیوں کو لئے سمندر میں جاگرتا ہے۔ پہاڑوں سے نکلنے والے دریاانپے ساتھ نہ صرف میٹھا پانی لاتے ہیں بلکہ پانی کے بہاؤ سے مٹی لاتے ہیں جو وہ نہایت زرخیز ہوتی ہے اور اس مٹی سے اچھی کاشت ہوتی ہے ہندوستان میں شمال میں ہمالیہ پہاڑ سے نکلنے والے دریا اور جنوب میں مشرقی و مغربی گھاٹ سے نکلنے والے دریا اپنے ساتھ زر خیز مٹی لاتے ہیں۔ اس لئے ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں زراعت اچھی ہوتی ہے۔ اسی لئے ہندوستان ایک زرعی ملک کہلاتا ہے۔

انسان نے جب ترقی کی تو اس نے ضرورت کے مطابق پانی کو محفوظ کرنے کے طریقے بھی سیکھے۔ اور ڈھلوان علاقوں میں باندھ بناکر پانی کو محفوظ کیا اور پانی کے بڑے ذخائر بنا کر چھوٹے چھوٹے کنالوں سے دور دراز علاقوں تک پانی کو پہنچانے اور وہاں زراعت کو عام کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ انسان کی ایک اہم ضرورت برقی بھی ہے۔ جو اسی پانی سے بہت حد تک تکمیل ہوتی ہے۔ بڑے بڑے ذخائر آب کے پاس ڈھلوان جگہ پر برقی ٹربائین لگائے جاتے ہیں اور اوپر سے جب پانی ان ٹربائین پر گرتا ہے تو ٹربائین گھومنے لگتے ہیں اس سے برقی حاصل ہوتی ہے۔ اس طریقہ سے حاصل ہونے والی برقی کو ہائیڈل پاور کہتے ہیں۔ عموماً یہ طریقہ کار موسم برسات میں پانی کی فراوانی کے دوران کار آمد رہتا ہے۔ پانی کی سطح کم ہوجائے تو اس طریقہ سے بجلی حل نہیں ہوپاتی چنانچہ پانی کو بھاپ بناکر اس سے حاصل ہونے والی قوت سے جو برقی حاصل ہوتی ہے اسے تھرمل پاور کہتے ہیں۔ اس میں پانی کو بڑے  پیمانے پر گرم کرنے کے لئے کوئلہ جلایا جاتا ہے۔ جو زمین سے نکالا جاتا ہے۔ چنانچہ پانی سے حاصل ہونے والی برقی سے انسان اپنی رات کو روشن کرتا ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں اس سے مددلیتا ہے۔ جن علاقوں میں تالاب‘ جھیل دریا ندی نالے کچھ نہ ہوں وہاں کے لوگوں کی پانی کی ضرورت زمین کی تہہ میں موجود پانی سے ہوتی ہے۔ چنانچہ انسان پانی سے تیار ہونے والی برقی سے زمین میں کنویں اور بورویل کھودتا ہے اور تازہ پانی حاصل کرتا ہے۔ سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کنویں یا بورویل کا پانی جھیل یا تالاب کے پانی سے زیادہ اچھا ہوتا ہے۔ زمین میں پائے جانے والے نمکیات شامل ہو جانے کے سبب بعض کنوؤں کا پانی کھارا ہو جاتا ہے۔ اسے بھاری پانی کہتے ہیں۔

           اس طرح دیکھا جائے تو پانی کی حفاظت اور زمین کے کونے کونے تک آب رسانی کا یہ نظام قدرت اپنے اندر ہزاروں نعمتیں لئے ہوئے ہے۔ اول پانی کو پیدا کرنا ایک بڑی نعمت ہے پھر بادلوں کے ذریعہ اس کہ زمین کے ہر خطہ تک پہونچانا دوسری نعمت ہے۔ پھر اس کو انسان کے پینے کے قابل بنانا تیسری نعمت ہے۔ انسان کو اس کے پینے کا موقع دینا چوتھی نعمت ہے۔ پھر اس پانی کو ضرورت کے مطابق محفوظ رکھنا اور قابل استعمال رکھناپانچویں نعمت ہے۔ اس طرح پانی کے بے شمار نعمتیں ہیں پانی نعمت کے ساتھ ساتھ زحمت بھی ہے۔ اگر ضرورت سے زیادہ پانی برس جائے تو سیلاب اور طوفان کی شکل اختیار کرتے ہوئے بہت بڑی تباہی و بربادی کا سامان بن جاتا ہے۔ انسان پانی پر قابوپانے کے لئے بے بس ہے۔ چنانچہ اسے رب سے ہمیشہ یہی دعا کرنی چاہئے کہ اے رب ہمیں نفع دینے والی بارش عطا فرما۔

          پانی سے حضرت انسان کی جتنی ضرورتوں کی تکمیل ہوتی ہے اور پانی انسان کے لئے جتنی اہمیت رکھتا ہے اتنا ہی اسے عام کر دیا گیا ہے۔ تاہم آج کے دور میں پانی کے لئے انسان کو کچھ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے اور بعض حضرات اس کے لئے مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ لیکن ایک بات یہ بھی ہے کہ عام ہونے کی وجہ سے پانی کی قدر نہیں کی جاتی اور اسے غیر ضروری طور پر بہادیا جاتا ہے۔ اگر پانی کو احتیاط سے استعمال کیا جائے تو اس سے دو فائدے ہو سکتے ہیں۔ پہلا فائدہ تو خود انسان کے لئے یہ ہوگا کہ اسے آنے والے وقتوں میں پانی کی قلت کا سامنا کرنا نہیں پڑیگا اور سہولت کے ساتھ اسے پانی دستیاب ہوتا رہے گا جس سے اس کی ضروریات کی تکمیل ہو گی دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اس قدر اہمیت کی حامل ضرورت کی تکمیل کرنے والے پانی کی حفاظت کے ذریعہ انسان خدائے بزرگ و برتر کی نعمت کا بھی شکر گذار ہوگا ورنہ پانی کی عدم حفاظت کے باعث اسے ناشکری کا مرتکب بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں ملک کی کئی ریاستوں میں خشک سالی کا دور دورہ ہے اور لوگوں کو پانی کے حصول کے لئے میلوں کا سفر کرنا پڑتا ہے پانی کی حفاظت کو اور بھی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے اور حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پانی کی حفاظت کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

          ایک زمانہ تھا جب علاقوں پر قبضے کے لئے جنگیں لڑی جاتی تھیں اب پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کو دیکھ کر یہ کہا جارہا ہے کہ مستقبل میں پانی والے علاقوں کے لئے جنگیں لڑی جائیں گی۔ ماحولیاتی عدم تو ازن کے سبب بھی پانی کی تقسیم کی قدرتی نظام میں تبدیلی واقع ہو رہی ہے جنگلات کا حد سے زیادہ کٹاؤ جنگلوں میں ہونے والی بمباری کے سبب فضا میں شامل ہونے والی گرمی زمین کا بڑھتا درجہ حرارت جیسے عوامل کے سبب بارش کا توازن بگڑ گیا ہے۔ سیلاب تباہی کا سامان لے کر آرہے ہیں تو کئی بارش والے علاقے شدید قحط سالی کا سامنا کر رہے ہیں ایسے میں جنگلات کا تحفظ شجرکاری مہم کا فروغ جنگوں پر پابندی اور پانی کا محتاط استعمال پانی کی بڑھتی قلت کو دور کرسکتا ہے۔

٭٭٭