Saturday, June 14, 2025

نمک کی اہمیت. پروفیسر محمد اسلم فاروقی

 

نمک کی اہمیت

پروفیسر محمد اسلم فاروقی

 


             غذاکے معاملے میں بنیادی طور پر انسان کو ذائقہ دار چیزیں پسند ہیں۔ زبان ہر قسم کے ذائقے کو چکھنا چاہتی ہے۔ اور غذاؤں کوذائقہ دار بنا نے والی ایک بنیادی چیز نمک ہے۔ نمک چونکہ دنیا کے انسانوں کو کم خرچ پر اور با آسانی دستیاب ہوجاتا ہے۔ لہذا اس کی قدر نہیں کی جاتی لیکن نمک کی اہمیت کا اندازہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب بھولے سے کسی پکوان میں نمک نہیں پڑتا اور صرف نمک نہ ہونے کی وجہہ سے پکائی ہوئی قیمتی سے قیمتی شئے کا ذائقہ کم ہو جاتا ہے۔ بچوں کی ایک کہانی بھی مشہور ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنی اولاد سے پوچھا کہ وہ مجھے کس چیز سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں تب بادشاہ کی ایک بیٹی نے جواب دیا کہ آپ مجھے نمک سے زیادہ عزیز ہیں۔ بادشاہ کو یہ بات مضحکہ خیز لگی۔ کہ اسے نمک جیسی حقیر شئے پر فوقیت دی گئی جب کہ اس کی دوسری اولادوں نے قیمتی اشیاء پر اسے فوقیت دی تھی۔ بادشاہ کی لڑکی نے مناسب موقع پر اس بات کو سمجھانے کا وعدہ کیا۔ ایک دفعہ پڑوسی ملک کا بادشاہ اس بادشاہ کا مہمان بنا۔ اتفاق سے پکوان کی ذمہ داری بادشاہ کی اسی لڑکی نے سنبھالی جس نے اپنے باپ کو نمک پر فوقیت دی تھی۔ لڑکی نے جان بوجھ کر سارے پکوان بغیر نمک کے پھیکے بنائے۔ پھیکے کھانوں کی دعوت سے بادشاہ کی سبکی ہوئی تب لڑکی نے سمجھا یا کہ حقیر سمجھے جانے والے نمک کی کیا اہمیت ہے نمک قدرتی طور پر دنیا کے ہر علاقے میں پایا جاتا ہے۔نمک کا بڑا ذخیرہ سمندر کے کھارے پانی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ سمندروں کے ساحل پر وسیع حوض تعمیر کئے جاتے ہیں۔ جس میں سمندر ی پانی کو سکھا کر نمک حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نمک پہاڑوں اور چٹانوں کو کاٹ کر اور زمین کی سطح سے بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ خالص نمک کوسوڈیم کلورائیڈ کہتے ہیں لیکن معدنی نمک میں بے شمار معدنیا ت جیسے سوڈیم سلفیٹ‘ کیلشیم کلورائیڈ وغیر ہ شامل ہوتے ہیں۔ نمک ایک ٹھوس اور ذائقہ دار شئے ہے۔ اس کا ذائقہ کھارایا نمکین ہوتا ہے۔ ٹھوس نمک کو پیس کر اس کا سفوف بنایا جاتا ہے۔خالص نمک کی یہ نشانی ہے کہ وہ پانی جذب نہیں کرتا۔ سمندروں یا چٹانوں سے حاصل ہونے والے نمک میں میگنیشیم کلورائیڈ شامل ہوتا ہے۔ اس لئے اس میں نمی جذب ہوتی ہے۔ صاف کئے ہوئے نمک کارنگ انتہائی سفید ہوتا ہے جب کہ ہندوستانی نمک میں سرخ اور گلابی رنگ کا شائبہ ہوتا ہے۔ انسانی اور حیوانی زندگی کے لئے نمک بے حد ضروری ہے۔

            طبی لحاظ سے نمک کی اہمیت کا انداز ہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انسان کو نمک کے استعمال سے روک دیا جائے تو وہ گھل گھل کر مر جائے گا۔ اسی طرح اگر جانوروں کو نمک کے استعمال سے روکا جائے تو وہ بیمار ہو کر ہلا ک ہو جاتے ہیں۔ بہت سے جانور نمکین پودے کھا کر اپنے جسم کے لئے درکار نمک کی مقدار حاصل کرتے ہیں۔

            انسانوں اور حیوانوں کے جسم میں طبعی طور پر نمک کی ایک خاص مقدار ہر وقت موجود رہتی ہے۔ اگر اس میں کمی ہو جائے تو صحت خراب ہو جاتی ہے۔ طبی تحقیق  کے مطابق انسان کو یومیہ کم از کم 1/21  اونس نمک ضرور استعمال کرنا چاہئے۔ گرم اور شدید آب و ہوا والے علاقہ میں کم از کم یومیہ ایک اونس نمک استعمال کرنا چاہئے کیونکہ گرمی کے سبب پسینے کے ذریعہ تیزی سے انسانی جسم سے نمک خارج ہو تا رہتا ہے۔ موسم گرما میں مشروبات میں ایک چمچ شکر کے ساتھ ایک چٹکی نمک لینا مناسب ہوگا یا گلوکوس کا پانی پابندی سے پینا چاہئے۔ نمک اور پانی کی کمی کاشکار ہو کر موسم گرما میں لولگنے سے کئی لوگ بیمار پڑجاتے ہیں اور ان میں سے چند موت کاشکار بن جاتے ہیں۔ لہذا ایسے لوگوں کو فوری طبی امداد حاصل کرنے اور گلو کوس لگوانے کی فکر کرنا چاہئے۔ نمک کی زیادتی بھی انسان کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ اس سے خون کا دباؤ (Blood Pressure) بڑھ جاتا ہے اور اختلاج قلب اور دل کے دوسرے عوارض پیدا ہو جاتے ہیں۔ لہذا عمر رسیدہ افراد کو نمک کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہئے۔

            دنیا کی تاریخ جتنی پرانی ہے نمک کے استعمال کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے۔ قدیم پتھر کے زمانے میں جب انسان نے جانوروں کا شکار کرنا سیکھ لیا تھا تب وہ کچا گوشت ہی چبا کر کھاجاتا تھا۔ آگ کی ایجاد کے بعد اس نے گوشت کو بھون کر کھانا سیکھ لیا تھا۔ تب وہ کچا گوشت ہی چبا کر کھاجاتا تھا۔ آگ کی ایجاد کے بعد اس نے گوشت کو بھون کر کھانا سیکھا۔ نمک دریافت ہوا تو انسان نے گوشت کو نمک لگا کرکھانا سیکھا۔ یہیں سے اس کی غذا میں ذائقہ شامل ہونے لگا۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نمک کو سب سے پہلے چین والوں نے دریافت کیا۔ اس زمانے میں نمک کے حصول کا واحد ذریعہ سمندر تھے۔ قدیم یونانی لاطینی‘ سنسکرت کتابوں میں نمک کے استعمال کے واقعات ملتے ہیں۔ مصر کے لوگ اپنے مردوں کے جسموں کو نمک لگا کر محفوظ کیا کرتے تھے۔ فرعون مصر کی حنوط شدہ لاش آج بھی محفوظ ہے۔ اس کی حفاظت کے لئے استعمال کئے جانے والے مصالحوں میں اہم جز و نمک بھی ہے ہر زمانے میں مذہبی اعتبار سے بھی نمک کو اہمیت حاصل رہی ہے۔

            2000 ق  م  میں چین کے بادشا”یو“ کے عہد میں نمک کو بڑا مقدس خیال کیا جاتا تھا۔ اور دیوتاؤں کے حضور پیش کی جانے والی قربانی کے گوشت کو نمک لگایا جاتا تھا۔  1100ق  م  میں یونان میں تھیوگورس کے عہد میں نمک کو امن اور انصاف کے دیوتا کا مقام حاصل تھا۔ قدیم زمانے میں ہندو بھی نمک کو پوتر (پاک) چیز تصور کرتے تھے۔ عیسائی نمک کو وفاداری اور عقل مندی کا نشان تصور کرتے ہیں۔ یہودی نمک کو میثاق یا معاہدہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے آپس میں اس کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اسلام میں بھی نمک کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نمک سے روزہ کھولنے کو افضل بیان کیا گیا ہے۔ صاحب جامع کبیر نے حضرت علی ؓسے روایت نقل کی ہے کہ حضوراکرم  ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے علیؓ کھانا نمک کے ساتھ شروع کرنا چاہئے اس میں سترا مراض سے شفارکھی گئی ہے۔ جس میں جنون‘ جذام‘ پیٹ درد‘ دانت درد  وغیرہ شامل ہیں۔ حضور ﷺ کھیرے کو نمک کے ساتھ تناول فرمایا کرتے تھے۔ نمک کے نام کے ساتھ ایفائے عہد‘ وفاداری وغیرہ کے محاورے اردو ادب میں ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں۔ وفاداری نبھانے والے کو نمک حلال اور غداری کرنے والے کو نمک حرام کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ نمک کھانا نمک کا حق ادا کرنا وغیرہ محاورے بھی مشہور ہیں۔ نمک غذا میں استعمال ہونے کے علاوہ دیگر اشیا کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس سے ایش سوڈا‘ کاسٹک سوڈا‘ سالٹ کیک‘ صابن‘ گلیسرین‘ بارود‘ بلیچنگ پوڈر اور ہائیڈروکلورک ایسڈ بنتے ہیں۔ نمک جانوروں کی کھال سکھانے کھاد بنانے‘ مچھلی کو محفوظ کرنے کے کام بھی آتا ہے۔ آج کل طبی ماہرین بچوں اور حاملہ خواتین کو آیوڈین ملے نمک کے استعمال پر زور دے رہے ہیں تاکہ بچوں کو مختلف امراض سے بچایا جاسکے۔ مختلف زبانوں میں نمک کے مختلف نام ہیں۔ اسے اردو اور فارسی میں نمک‘ عربی میں ملح‘ ہندی اور تلگو میں نون‘ انگریزی میں سالٹ کہا جاتا ہے۔ نمک کا سائنسی نام سوڈیم کلورائیڈ (NaCl) ہے۔ غرض نمک خدا کی جانب سے انسانوں کو عطا کر دہ ایک عظیم نعمت ہے۔ جس پر انسان کو اپنے خدا کا شکر گذار ہونا چاہئے اور نمک کی قدر کرنا چاہئے۔

٭٭٭

پانی کی حفاظت کا نظام قدرت.پروفیسر محمد اسلم فاروقی

 

پانی کی حفاظت کا نظام قدرت

پروفیسر محمد اسلم فاروقی

           خالق کائنات نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اسے بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا تاکہ انسان ان نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی زندگی پر سکون انداز میں بسر کرے اور ان نعمتوں کے عطا کرنے والے رب کا شکر گذار بند ہ بنے انسان کو حاصل ہونے والی بے شمار نعمتوں میں ایک نعمت پانی ہے۔ ایک لحاظ سے انسان کی سب سے اہم ضرورت پانی ہے۔ پانی نہ صرف انسان کے پینے کے کام آتا ہے بلکہ اس کی غذائی اجناس کی پیداوار میں معاون ہوتا ہے۔ پانی سے انسان اپنے جسم کی اپنے گھر اور ماحول کی گندگی کو دور کرتا ہے۔ پانی انسان کو سال کے بارہ مہینے درکار ہوتا ہے جب کہ پانی کے حصول کا اہم ذریعہ یعنی بارش سال کے مخصوص ایام میں مخصوص مقامات پر ہوتی ہے۔ چنانچہ قدرت نے انسان کی اس اہم ضرورت کی حفاظت کا انتظام بھی فرمادیا۔ انسانی زندگی کے لئے اہم چیزیں جیسے ہوا‘ پانی اور روشنی کو خدا نے وافر مقدار میں اور مفت فراہم کیا ہے۔ یہ خدا کی حکمت ہے کہ جس چیز کی اہمیت اور ضرورت زیادہ ہے اسے عام کردیا۔ کرہ ارض کا دو تہائی حصہ سمندر وں کی شکل میں۔ کھارے پانی پر مشتمل ہے۔ راست طور پر یہ کھارا پانی انسان کے لئے قابل استعمال نہیں لیکن اس کھارے پانی کے بھی اپنے بہت سے فائدے ہیں اور اسی پانی کے ذریعہ انسان کے لئے ضروری میٹھا پانی حاصل ہوتا ہے۔ کھارے پانی سے میٹھے پانی کا حصول اس طرح ہوتا ہے۔ کہ شدید گرمی کے سبب سمندر کا پانی بخارات بن کر اوپر فضاء میں اڑجاتا ہے‘ پانی کے یہ بخارات بادل کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور ہوا کے زور پر آگے بڑھتے ہیں اور مختلف جغرافیائی عوامل کے سبب ہوا میں درجہ حرارت کم ہونے پر آبی بخارات چھوٹے چھوٹے قطروں میں تبدیل ہو کر بارش کی شکل میں زمین پر گرپڑتے ہیں۔ بارش کا پانی میٹھا ہوتا ہے۔ اور یہ زمین پر بسنے والے انسانوں جانوروں اور پودوں کے لئے راحت و زندگی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ سمندر کے پانی کو خدا نے اپنی حکمت سے انتہائی کھارا اور نمکین بنایا ہے اس سے ہزاروں ٹن نمک نکالا جاسکتا ہے۔ کھارے پانی کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ اس میں چیزیں گل کر بھسم اور فنا ہو جاتی ہیں۔ سمندر چونکہ سطح زمین سے نیچے واقع ہوتے ہیں اس لئے اس میں ندی نالوں کے ذریعہ زمین پر بسنے والے انسانوں اور جانوروں کی گندگی جاگرتی ہے اور یہ گندگی سمندر کے کھارے پن کے سبب گل کر ختم ہو جاتی ہیں۔ سمندر میں خود زمین سے زیادہ مخلوقات پائی جاتی ہیں۔ اور یہ مخلوقات بھی ختم ہو کر سمندر کے پانی میں اس کے کھارے پن کے سبب گل جاتی ہیں۔ اگر سمندر کا پانی میٹھا ہوتا تو ندی نالوں کے ذریعہ اس میں شامل ہونے والی انسانوں کی گندگی اور اس میں موجود لاکھوں قسم کے جانوروں کے مرنے کے سبب پیدا ہونے والے تعفن کی بدبو اتنی شدید ہوتی  کہ خشکی پر رہنے والے انسانوں اور دیگر جانداروں کی تندرستی اور زندگی محال ہو جاتی۔

          اس طرح دیکھا جائے تو سمندر کا کھارا پن انسانوں کے حق میں بہتر ہے۔ اس کھارے پانی کو نہ پیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس سے پیاس بجھتی ہے۔ انسانی مزاج کی اسی فطرت کے پیش نظر قدرت نے کھارے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کر نے کا نظام چلایا۔ صرف بارش کے ہونے سے انسان کے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ پانی زندگی کی ایک ایسی ضرورت ہے جو ہر آن اور ہر دن پوری ہونی چاہئے۔ انسان کو پانی کی اس مستقل ضرورت کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر جگہ سال کے بارے مہینے ہر روز بارش ہوا کرتی رہے۔ لیکن اس سے موسمی توازن بگڑ جاتا۔ انسان کے مزاج کی یہ خصوصیت ہے کہ اسے سردی‘ گرمی اور بارش متوازن انداز میں ملے۔کسی بھی چیز کی زیادتی اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ اگر روز بارش ہونے لگے تو انسان کے پانی کا مسئلہ تو حل ہو جائے گا لیکن اس کی دیگر ضروریات کی تکمیل میں روزانہ کی بارش خلل ڈالے گی۔ چنانچہ خدا نے انسان کی اسی ضرورت کے پیش نظر بارش کے لئے ایک خاص موسم مقرر فرمایا۔ اب رہا مسئلہ کہ خاص موسم میں ہونے والی بارش کے پانی کو کس طرح محفوظ کیا جائے کہ سال بھر انسان کی پانی کی ضرورت کی تکمیل ہوتی رہے۔ اگر برتنوں اور ٹینکوں میں پانی کو جمع کرنا ہوتا تو سات آٹھ مہینوں کے لئے ہر انسان کی ضرورت کے مطابق پانی جمع کرنے کے لئے اسے سینکڑوں ٹینکوں کا استعمال کرنا پڑتا اور انہیں رکھنے کے لئے بہت بڑی جگہ کی ضرورت بھی پڑتی اور یہ مشاہدہ ہے کہ بارش زمین کے ہر حصہ پر متوازن نہیں ہوتی ہے۔ کہیں زیادہ  تو کہیں کم اور کہیں بالکل نہیں ہوتی۔ چنانچہ انسان کو پانی بھر بھر کر دور دراز علاقوں تک مشقت سے اٹھاکر لے جانا پڑتا۔ انسان کی اس دشواری کے پیش نظر خدا نے بارش کے پانی کی حفاظت کے مختلف انتظام فرمائے تاکہ دیگر موسموں میں بھی انسانوں اور دیگر جانداروں کو تازہ پانی ان کی ضرورت کے مطابق حاصل ہوسکے۔ بارش کے ذریعہ جو پانی زمین پر برستا ہے اس کا کچھ حصہ تو فوری طور پر درختوں‘ کھیتوں‘ جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرنے کے کام آتا ہے۔ اور کچھ حصہ زمین کے نشیبی علاقوں میں تالابوں میں اور جھیلوں کی شکل میں جمع ہو جاتا ہے اور کچھ حصہ زمین میں جذب ہوکر محفوظ ہو جاتا ہے۔ پانی کا ایک بڑا ذخیرہ پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں پر برفانی تودوں کی شکل میں منجمد ہو جاتا ہے۔ پانی چونکہ ڈھلان کی طرف بہتا ہے چنانچہ اونچی چوٹیوں پر برف کی شکل میں موجود پانی کا ذخیرہ سردی کے علاوہ دیگر موسموں میں پگھل کر بہتا ہوا دریاؤں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اور زمین کے ڈھلان پر بہہ کر آخرمیں انسان کی گندگیوں کو لئے سمندر میں جاگرتا ہے۔ پہاڑوں سے نکلنے والے دریاانپے ساتھ نہ صرف میٹھا پانی لاتے ہیں بلکہ پانی کے بہاؤ سے مٹی لاتے ہیں جو وہ نہایت زرخیز ہوتی ہے اور اس مٹی سے اچھی کاشت ہوتی ہے ہندوستان میں شمال میں ہمالیہ پہاڑ سے نکلنے والے دریا اور جنوب میں مشرقی و مغربی گھاٹ سے نکلنے والے دریا اپنے ساتھ زر خیز مٹی لاتے ہیں۔ اس لئے ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں زراعت اچھی ہوتی ہے۔ اسی لئے ہندوستان ایک زرعی ملک کہلاتا ہے۔

انسان نے جب ترقی کی تو اس نے ضرورت کے مطابق پانی کو محفوظ کرنے کے طریقے بھی سیکھے۔ اور ڈھلوان علاقوں میں باندھ بناکر پانی کو محفوظ کیا اور پانی کے بڑے ذخائر بنا کر چھوٹے چھوٹے کنالوں سے دور دراز علاقوں تک پانی کو پہنچانے اور وہاں زراعت کو عام کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ انسان کی ایک اہم ضرورت برقی بھی ہے۔ جو اسی پانی سے بہت حد تک تکمیل ہوتی ہے۔ بڑے بڑے ذخائر آب کے پاس ڈھلوان جگہ پر برقی ٹربائین لگائے جاتے ہیں اور اوپر سے جب پانی ان ٹربائین پر گرتا ہے تو ٹربائین گھومنے لگتے ہیں اس سے برقی حاصل ہوتی ہے۔ اس طریقہ سے حاصل ہونے والی برقی کو ہائیڈل پاور کہتے ہیں۔ عموماً یہ طریقہ کار موسم برسات میں پانی کی فراوانی کے دوران کار آمد رہتا ہے۔ پانی کی سطح کم ہوجائے تو اس طریقہ سے بجلی حل نہیں ہوپاتی چنانچہ پانی کو بھاپ بناکر اس سے حاصل ہونے والی قوت سے جو برقی حاصل ہوتی ہے اسے تھرمل پاور کہتے ہیں۔ اس میں پانی کو بڑے  پیمانے پر گرم کرنے کے لئے کوئلہ جلایا جاتا ہے۔ جو زمین سے نکالا جاتا ہے۔ چنانچہ پانی سے حاصل ہونے والی برقی سے انسان اپنی رات کو روشن کرتا ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں اس سے مددلیتا ہے۔ جن علاقوں میں تالاب‘ جھیل دریا ندی نالے کچھ نہ ہوں وہاں کے لوگوں کی پانی کی ضرورت زمین کی تہہ میں موجود پانی سے ہوتی ہے۔ چنانچہ انسان پانی سے تیار ہونے والی برقی سے زمین میں کنویں اور بورویل کھودتا ہے اور تازہ پانی حاصل کرتا ہے۔ سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کنویں یا بورویل کا پانی جھیل یا تالاب کے پانی سے زیادہ اچھا ہوتا ہے۔ زمین میں پائے جانے والے نمکیات شامل ہو جانے کے سبب بعض کنوؤں کا پانی کھارا ہو جاتا ہے۔ اسے بھاری پانی کہتے ہیں۔

           اس طرح دیکھا جائے تو پانی کی حفاظت اور زمین کے کونے کونے تک آب رسانی کا یہ نظام قدرت اپنے اندر ہزاروں نعمتیں لئے ہوئے ہے۔ اول پانی کو پیدا کرنا ایک بڑی نعمت ہے پھر بادلوں کے ذریعہ اس کہ زمین کے ہر خطہ تک پہونچانا دوسری نعمت ہے۔ پھر اس کو انسان کے پینے کے قابل بنانا تیسری نعمت ہے۔ انسان کو اس کے پینے کا موقع دینا چوتھی نعمت ہے۔ پھر اس پانی کو ضرورت کے مطابق محفوظ رکھنا اور قابل استعمال رکھناپانچویں نعمت ہے۔ اس طرح پانی کے بے شمار نعمتیں ہیں پانی نعمت کے ساتھ ساتھ زحمت بھی ہے۔ اگر ضرورت سے زیادہ پانی برس جائے تو سیلاب اور طوفان کی شکل اختیار کرتے ہوئے بہت بڑی تباہی و بربادی کا سامان بن جاتا ہے۔ انسان پانی پر قابوپانے کے لئے بے بس ہے۔ چنانچہ اسے رب سے ہمیشہ یہی دعا کرنی چاہئے کہ اے رب ہمیں نفع دینے والی بارش عطا فرما۔

          پانی سے حضرت انسان کی جتنی ضرورتوں کی تکمیل ہوتی ہے اور پانی انسان کے لئے جتنی اہمیت رکھتا ہے اتنا ہی اسے عام کر دیا گیا ہے۔ تاہم آج کے دور میں پانی کے لئے انسان کو کچھ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے اور بعض حضرات اس کے لئے مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ لیکن ایک بات یہ بھی ہے کہ عام ہونے کی وجہ سے پانی کی قدر نہیں کی جاتی اور اسے غیر ضروری طور پر بہادیا جاتا ہے۔ اگر پانی کو احتیاط سے استعمال کیا جائے تو اس سے دو فائدے ہو سکتے ہیں۔ پہلا فائدہ تو خود انسان کے لئے یہ ہوگا کہ اسے آنے والے وقتوں میں پانی کی قلت کا سامنا کرنا نہیں پڑیگا اور سہولت کے ساتھ اسے پانی دستیاب ہوتا رہے گا جس سے اس کی ضروریات کی تکمیل ہو گی دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اس قدر اہمیت کی حامل ضرورت کی تکمیل کرنے والے پانی کی حفاظت کے ذریعہ انسان خدائے بزرگ و برتر کی نعمت کا بھی شکر گذار ہوگا ورنہ پانی کی عدم حفاظت کے باعث اسے ناشکری کا مرتکب بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں ملک کی کئی ریاستوں میں خشک سالی کا دور دورہ ہے اور لوگوں کو پانی کے حصول کے لئے میلوں کا سفر کرنا پڑتا ہے پانی کی حفاظت کو اور بھی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے اور حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پانی کی حفاظت کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

          ایک زمانہ تھا جب علاقوں پر قبضے کے لئے جنگیں لڑی جاتی تھیں اب پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کو دیکھ کر یہ کہا جارہا ہے کہ مستقبل میں پانی والے علاقوں کے لئے جنگیں لڑی جائیں گی۔ ماحولیاتی عدم تو ازن کے سبب بھی پانی کی تقسیم کی قدرتی نظام میں تبدیلی واقع ہو رہی ہے جنگلات کا حد سے زیادہ کٹاؤ جنگلوں میں ہونے والی بمباری کے سبب فضا میں شامل ہونے والی گرمی زمین کا بڑھتا درجہ حرارت جیسے عوامل کے سبب بارش کا توازن بگڑ گیا ہے۔ سیلاب تباہی کا سامان لے کر آرہے ہیں تو کئی بارش والے علاقے شدید قحط سالی کا سامنا کر رہے ہیں ایسے میں جنگلات کا تحفظ شجرکاری مہم کا فروغ جنگوں پر پابندی اور پانی کا محتاط استعمال پانی کی بڑھتی قلت کو دور کرسکتا ہے۔

٭٭٭