Wednesday, October 21, 2026

مسعود حسین خان از پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ

 

مسعود حسین خان


پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ



 

پروفیسر مسعود حسین خاں کی رحلت (16) اکتوبر 2010ء) کے ساتھ اردو میں لسانیاتی تحقیق کے ایک دور کا خاتمہ ہو گیا ۔ یہ دور بیسویں صدی کی ان تین مقتدر علمی شخصیات پر مشتمل تھا جنھوں نے لسانی تلاش وتحقیق کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ اسے ہم اردو میں لسانی تحقیق کی پہلی نسل سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ مسعود حسین خان اس نسل کے آخری فرد تھے ۔ ہر چند -زمانی اعتبار سے اس نسل کے دیگر دو محققین -حافظ محمود خان شیرانی (متوفی 1946ء) اور -سید محی الدین قادری زور (متوفی 1962 ء ) . کو مسعود حسین خاں پر تقدم حاصل تھا، تاہم تحقیقی کاموں کی کیفیت و کمیت اور نوعیت نیزجدید لسانیاتی بصیرت کے اعتبار سے مسعود صاحب کو جو امتیاز حاصل تھا وہ ان دونوں محققین کے حصے میں نہ آسکا۔ تاہم ان تینوں محققین کو ہم لسانیاتی تحقیق کے عناصر ثلاثہ کے نام سے یاد کر سکتے ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مسعود حسین خاں نے اپنے کیریر کی ابتدا میں اگر چہ آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی ) کی ملازمت اختیار کر لی تھی لیکن چوں کہ وہ حد درجہ علمی وادبی اور تحقیقی ذوق ، رکھتے تھے اور درس و تدریس کے پیشے سے انہیں خاص رغبت تھی ، اس لیے وہ جلدہی ریڈیو کی ملازمت سے مستعفی ہو کر 1943ء میں علی گڑھ مسلم یو یورسٹی کے شعبہ اردو سےبہ حیثیت استاد منسلک ہوگئے ۔ پھر 1962 ء میں وہ عثمانیہ یونیورسٹی (حیدر آباد) کے شعبہ اردو کے پروفیسر و صدر مقرر ہوئے لیکن جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 1968 میں لسانیات کا با قاعدہ طور پر شعبہ قائم ہوا تو وہ اس کے پروفیسر اور بانی صدر کے)Founder Chairman

( عہدے پر فائز ہوئے۔

یہاں سے سبک دوش ہونے کے بعد انہیں اس شعبے کے تاحیات ایمریٹس پروفیسر ہونے کا)

Emeritus Professor( اعزاز حاصل ہوا۔ مسعود حسین خان

1981-82 کے دوران اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر یونیورسٹی (سری نگر) کے وزٹنگ پروفیسر بھی رہے جہاں انھوں نے اقبال کا نہایت ذوق وشوق لگن اور دل جمعی کے ساتھ مطالعہ کیا اور اقبال کی شاعری پر کتاب لکھی۔ کشمیر سے واپسی پر انھوں نے کئی اور علمی و تصنیفی کام کیے جن میں ورود مسعود ( خود نوشت سوانح حیات کی تکمیل واشاعت خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے۔ گویا ان کی پوری زندگی درس و تدریس ، مطالعہ وتحقیق اور تصنیفی و تالیفی کاموں میں ہی گزری.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسعود حسین خان محقق اور ماہر لسانیات بننے سے قبل ایک شاعر اور گیت کار تھے. لیکن جیسے جیسے لسانیات اور لسانی مسائل، نیز تحقیق و تدوین -سے ان کا رشتہ استوار ہوتا گیا، شعر گوئی سے ان کی رغبت کم ہوتی گئی، یہاں تک کہ " 1956ء میں ا اپنے مجموعہ کلام دو نیم کی " اشاعت کے بعد کے سے انھوں نے شعر کہنا بہت کم کر دیا ۔ یہ امر واقعہ ہے کہ مسعود صاحب کو شاعر کی حیثیت سے وہ شہرت نہ مل کی جو انھیں ایک محقق، نظریہ ساز اور ماہر لسانیات کی حیثیت سے حاصل ہوئی۔

علی گڑھ میں اپنے قیام کے دوران -انھوں نے چند تنقیدی مضامین بھی لکھے لیکن ۔ وہ ادبی تنقید کے داخلی و تاثراتی انداز سے : مطمئن نہ تھے اور ادب کے مطالعے میں معروضیت کے متلاشی تھے۔ وہ ادب کا ۔ مطالعہ متن کو خود کفیل و خود مختار مان کر کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ جلد ہی روایتی ادبی تنقید . سے ان کا جی بھر گیا۔ ان کے تنقیدی نوعیت -کے مضامین ان کے مجموعہ مضامین اردو زبان اور ادب ( 1952ء) میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ انھیں اقبال اور مطالعہ اقبال سے خصوصی لگاؤ تھا۔ انھوں نے اقبال کو پڑھا بھی تھا اور پڑھایا بھی تھا، چنانچہ علی گڑھ سے سبک دوش ہونے کے بعد جب 1981 ء میں ان کا تقررا قبال انسٹی ٹیوٹ، کشمیر یونیورسٹی (سری نگر) میں بہ حیثیت و زٹنگ پروفیسر ہوا تو اقبال کی شاعری اور ان کی فکر وفن پر انھوں نے ایک تنقیدی کتاب تصنیف کی جو اقبال کی نظری و عملی شعریات کے نام ے 1983ء میں اقبال انسٹی ٹیوٹ (کشمیر یونیورسٹی ) کی جانب سے اشاعت پذیر ہوئی ، اور اسے 1984ء کے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ اس کتاب میں مسعود صاحب کا انداز نقد معروضی رہا ہے۔ اس میں انھوں نے اقبال کی بعض نظموں کا اسلوبیاتی تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔پروفیسر مسعود حسین خاں بنیادی طور پر لسانیاتی حقیق کے مرد میدان تھے۔ ان کا بنیادی تحقیقی کام ان کا وہ عالمانہ تحقیقی مقالہ ہے جس میں انھوں نے اردو زبان کا عہد بہ عہد ارتقا اور تاریخ بیان کی ہے اور اس کے آغاز کا سب سے قابل قبول نظریہ بھی پیش کیا ہے۔ اس تحقیقی مقالے پر انھیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1945 ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری  تفویض ہوئی ۔ ۱۹۴۸ ء میں مقالہ  کتابی صورت میں ء مقد مہ  تاریخ زبان اردو کے نام سے شائع ہوا اس کے اب تک دس سے زائد ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ علمی حلقوں میں اس کتاب کی خاطر خواہ پذیرائی ہوئی - مسعود حسین خان کو ایک لسانی محقق اور نظریہ ساز کی حیثیت سے جو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی اس کی بنیاد یہی کتاب ہے۔

پروفیسر مسعود حسین خاں کا عالمانہ اور محققانہ کام تاریخی لسانیات ہی سے رکھتا ہے جس میں کسی زبان کے آغاز وابتدا کی چھان بین کی جاتی ہے اور اس کے عہد یہ عبد ارتقا کی تاریخ بیان کی جاتی ہے، نیزان تبدیلیوں پر غور کیا جاتا ہے جو امتداد زمانہ کے

ساتھ اس زبان میں وقوع پذیر ہوتی رہی ہیں۔ یہ تبدیلیاں صوتی ، صرفی، لغوی ، نحوی ، قواعدی اور معنیاتی سطحوں پر واقع ہوتی ہیں جنہیں لسانیاتی تبدیلیاں کہتے ہیں ہر زندہ زبان میں اس نوع کی تبدیلیوں کا واقع ہو نا لازمی امر ہے۔ مسعود حسین خاں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ پہلے لسانی محقق ہیں جنھوں نے تاریخی لسانیات کی روشنی میں اور نہایت منظم و منضبط انداز میں اردو زبان کی باقاعدہ تاریخ بیان کی ہے اور اس کے آغاز کا سب سے قابل قبول نظریہ پیش کیا ہے جس نے پچھلےتمام نظریوں کو رد کر دیا ہے۔ نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی مسعود صاحب کے پیش کردہ نظریہ آغاز زبان اُردو کو تا حال کوئی دوسرا محقق ٹھوس لسانیاتی بنیادوں پر چیلنج نہیں کر سکا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسعود حسین خاں صاحب سے قبل اردو زبان کی کوئی منظم و مربوط اور باقاعدہ تاریخ نہیں لکھی گئی ۔ حافظ محمود خان شیرانی نے پنجاب میں اردو (1928ء) میں اردو زبان کی عہد بہ عہد تاریخ نہیں بیان کی ہے، بلکہ اردو کے پنجاب میں پیدا ہونے کا محض نظریہ پیش کیا ہے جو ان کا اپنا نظریہ نہیں، بلکہ ان سے پہلے شیر علی خان سر خوش اس نظریے کو اپنے تذکرہ اعجاز بن (1923ء) میں پیش کرچکے تھے ۔ سیدمحی الدین قادری زور بھی اپنی کتاب ہندوستانی لسانیات (1932ء) میں زیادہ تر لسانیات کے مقاصد و فوائد اور زبان کی ماہیت، آغاز و تشکیل اور تغیر و تبدل ہی سے بحث کرتے ہیں اور دنیا کی زبانوں کے طریقہ تقسیم اور ان کی درجہ بندی پر اپنی ساری توجہ صرف کرتے ہیں۔ وہ زبان اردو کو اردو کہنے کے۔ بجائے ہندوستانی کہتے ہیں اور ہندوستانی کے آغاز کے مختلف نظریات بیان کرنے کے بعد شیرانی کی تقلید میں اس کا ارتقاء پنجاب سے بتاتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ زبان ہندوستانی کا ارتقا پنجاب ہی سے شروع ہو چکا تھا لیکن اس کے ثانوی مدارج دوآبہ ، گجرات اور دکن میں تکمیل کو پہنچے۔ وہ اردو کی عہد بہ عہد تاریخ بیان کرنے کے بجائے اس کی مقامی لسانی خصوصیات پر زیادہ توجہ صرف کرتے ہیں، اور اردو ہندی تنازعہ پر اپنی کتاب " ہندوستانی لسانیات ختم کر دیتے ہیں۔

پروفیسر مسعود حسین خاں کی لسانیاتی تحقیق کا دوسرا پہلو صوتیات با لخصوص عروضی Prosodic( صوتیات phonology) ہے۔ اس موضوع سے انھیں اس وقت دلچپسی پیدا ہوئی جب انھوں نے اعلیٰ تعلیم کی غرض سے 1950 ء میں یورپ کا سفر کیا۔ مسعود صاحب نے 1950 1953 - انگلستان اور فرانس کی دانش گاہوں میں رہ کر لسانیات جدید کی اعلیٰ تربیت حاصل کی. اور پیرس (فرانس) سے ڈی لٹ (D.Lit) کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا یہ تحقیقی مقالہ انگریزی میں تھا جو

"A Phonetic and

Phonological Study of the Word in Urdu."/

کے نام سے شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے 1954ء میں کتابی صورت میں شائع ہوا تھا ۔ مسعود صاحب کے اس عالمانہ حقیقی کارنامے سے اہل اردو ایک طویل عرصے تک ناواقف تھے۔ راقم السطور نے اس مقالے کا اردو میں ترجمہ کیا اور اپنے مفصل مقدمے کے ساتھ اردو لفظ کا صوتیاتی اور تجر صوتیاتی مطالعہ کے نام سے 1986ء میں شعبہ لسانیات علی گڑھ مسلم یونیورٹی کی جانب سے شائع کیا۔ اردو میں اس نوع کے مطالعے اور تجزیے کی یہ پہلی کوشش تھی۔

اردو صوتیات کے ضمن میں مسعود صاحب کے بعض دیگر کام بھی خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، مثلاً انھوں نے بڑی تحقیق اور غور و فکر کے بعد اردو حروف تہجی کی صوتیاتی ترتیب پیش کی ، اور اردو صوتیوں

کی بعض خصوصیات Phonemes(

کی نشاندہی کی جن کی جانب اب تک کسی ماہر لسانیات نے اپنی توجہ مرکوز نہیں کی تھی۔ پروفیسر مسعود حسین خاں کو بجا طور پر اردو میں اسلوبیاتی تنقید کا بنیاد گزار تسلیم کیا گیا ہے۔ انھوں نے امریکہ سے واپسی پر 1960ء کے بعد سے اسلوبیاتی نوعیت کے مضامین لکھنا شروع کیے جس سے اردو میں ایک نئے دبستان تنقید، یعنی اسلوبیاتی تنقید کی بنیاد پڑی۔ اس سلسلے کے ان کے مضامین بعض رسائل کے علاوہ ان کے مجموعہ مضامین شعر و زبان (1966ء) میں بھی شامل ہیں۔ مسعود صاحب نے اسلوبیات (Stylistics) کی نظری بنیادیں اپنے ایک مضمون مطالعہ شعر (صوتیاتی نقطہ نظر میں بھی پیش کی ہیں۔

اس سلسلے کا ان کا آخری مضمون بہ عنوان اسلوبیات ہے جو شعبہ لسانیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تحقیقی مجلے اطلاقی لسانیات کے شمارہ: 3-2 ، بابت 2002 -2003 ء میں شائع ہوا۔

پروفیسر مسعود حسین خان کو تدوینی کاموں سے بھی خصوصی دلچسپی رہی ہے۔ انھوں نے حیدر آباد میں اپنے قیام کے دوران میں تین مثنویاں اور ایک داستان مرتب کر کے شائع کی جن کے ہم یہ )2(،)1965( ہیں: 1) پرت نامه بکٹ کہانی (1965) (3) ابراہیم نامہ (1969ء) اور 'قصہ مہر افروز ودلبر (1966) ۔ حیدر آباد سے علی گڑھ واپسی پر انھوں نے ایک اور مثنوی عاشور نامہ مرتب کر کے 1972 ء میں شائع کی۔ مسعود صاحب نے ان قدیم متون کو اصول تدوین کے مطابق اور معیاری طرز پر مرتب کر کے شائع کیا ہے، اور ان کی مقدمہ نگاری میں ادبی ولسانی تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے۔

پروفیسر مسعود حسین خان ایک بہترین آپ بیتی نگار کی حیثیت سے بھی یاد رکھے جائیں گے ۔ انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح حیات ورود مسعود کے نام سے لکھی جسے اردو کی بہترین خود نوشت قرار دیا گیا۔ اس میں انھوں نے کھری اور سچی باتیں لکھ دیں جو کچھ لوگوں کو بری لگیں اور بعض لوگ ان سے ناراض ہو گئے لیکن مسعود صاحب کا کہنا تھا کہ اس میں انھوں نے وہی باتیں لکھی ہیں جو سچ تھیں اور انھیں ٹھیک لگیں ۔ ورود مسعود پر سب سے بہترین تبصرہ مشفق خواجہ نے ہفت روزہ عمیر (کراچی) میں کیا ؟ تھا۔ خواجہ صاحب بعض خود نوشتوں کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں : "... اور اب : اردو میں ایک ایسی آپ بیتی بھی شائع ہوگئی ہے جسے بلاشبہ اردو کی بہترین آپ بیتیوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے مصنف ہیں اور مشہور ماہر لسانیات محقق، نقاد اور شاعر ڈاکٹر مسعود حسین خاں، اور آپ بیتی کا نام ہے ورودمسعود ۔ یہ دوسری بات ہے کہ بعض لوگ اسے نا مسعود قرار دیں گے، کیوں کہ : اس میں ان کا ذکر اچھے لفظوں میں نہیں آیا۔ اس خود نوشت کے حوالے سے دہلی کے ایک شخص نے مسعود صاحب پر ازلہ = حیثیت عرفی کا مقدمہ دائر کر دیا تھا۔ کئی سال تک دہلی کی عدالت میں یہ مقدمہ چلتا -رہا، بالآخر جیت مسعود صاحب ہی کی ت ہوئی۔ اس کتاب کی سچائی کی اس سے بڑھ کر مثال اور کیا ہو سکتی ہے !

مسعود صاحب نے ادبی صحافت کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ انھوں نے تھوڑے ہی عرصے میں اس میدان میں بھی اپنی کارکردگی کا لوہا منوالیا تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی (حیدر آباد) کے شعبہ اردو سے منسلک ہونے کے بعد انہوں نے قدیم اردو کے نام سے ایک تحقیقی مجلہ جاری کیا جس میں شمال و دکن سے قدیم متون شائع کیے جاتے تھے۔ یہ سلسلہ ان کے علی گڑھ واپس آنے کے بعد بھی جاری رہا۔ قدیم اردو کی چار ضخیم جلدیں شائع ہوئیں۔ جلد اول، جلد دوم اور جلد سوم حیدر آباد سے اور جلد چہارم 1972 کا اجرا علی گڑھ سے عمل میں آیا ۔ قدیم اردو کی ان چار جلدوں میں بکٹ کہانی (محمد افضل افضل)، پرت نامه (فیروز بیدری)، مینا ستونتی (غواصی )، شمائل الاتقیا ( میراں یعقوب) ، ابراہیم نامہ (عبدل دہلوی ) اور عاشور نامه (روشن علی( جیسے قدیم متون ایڈٹ کر کے شائع کیے گئے جن کی ادبی ، لسانی اور تاریخی اہمیت سے انکار نہیں کہا جاسکتا۔ مسعود صاحب کی ادبی صحافت کو اس وقت چار چاند لگے جب انھوں نے انجمن ترقی اردو (ہند) کے جنرل سکریڑی پروفیسر آل احمد سرور کی عدم موجودگی میں اس انجمن کے جنرل سکریٹری کا عہدہ سنبھالا ، اور اس کے ہفتہ وار تر جمان ہماری زبان اور سہ ماہی اردو ادب کے ایڈیٹر کے فرائض انجام دیے ۔ مسعود حسین خاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے علمی و حقیقی مجلے فکر و نظر کے بھی

1971 تا 1973 مدیر رہے۔مسعود حسین خاں نے ہفتہ وار ہماری زبان کے مدیر کی حیثیت سے1969-70 اور 1972ء کے دوران خدمات انجام دیں۔ ان کے ہماری زبان میں تحریر کردہ اداریوں اور میرا صفحہ کے تحت شائع شده ان کے مختصر مضامین کا مجموعہ راقم السطور نے اردو کا المیہ کے نام سے مرتب کیا.کیا۔ یہ کتاب شعبہ لسانیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے 1973 ء میں شائع ہوئی۔ ان اداریوں اور مضامین میں مسعود صاحب نے ہندوستان میں اردو کی لسانی صورت حال کا صحیح جائزہ اور اس کی حالت زار کی سچی تصویر پیش کی ہے۔ انھوں نے اردو کے مسئلے پر جس بے باکی اور جرات مندی کے ساتھ قلم اٹھایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اردو تحریک کے فعال قلم کار کی حیثیت سے مسعود حسین خان کا نام ہمیشہ لیا جاتا رہے گا۔

پروفیسر مسعود حسین خان اگر چه سیاسی آدمی نہ تھے اور نہ ہی سیاسی معاملات سے ان کا کچھ لینا دینا تھا، تاہم انہوں نے آج سے بیس سال قبل مغربی اتر پردیش کےچھ اضلاع پر مشتمل ایک اردو پردیش ( (یوپی) کے قیام کا تصور پیش کیا تھا۔ یہ چھ اضلاع ہیں : 1 سہارن پور ، 2 مظفر نگر 3 میرٹھ 4 بجنور 5 رام پور اور 6 مراد آباد جن میں اردو بولنے والوں کا کثیر اجتماع پایا جاتا ہے۔ ان کے اس تصور یا نظریے کے ہے ان کا مضمون Urdu and the " 1981, Census of India

میں ملا حظہ کیا جا سکتا ہے جو شعبہ لسانیات ، علی گڑھ مسلم یو یورسٹی کے پہلے Allgarh

Papers in Linguistics

Number-2 Vol-1 (July-December 1991) میں شائع ہو اتھا ۔

ایک ممتاز عالم و دانشور محقق اور ماہر لسانیات ہونے کے ساتھ ساتھ مسعود حسین خاب ایک شاعر بھی تھے ، بلکہ ان کی ادبی زندگی کا آغاز شاعری ہی سے ہوا تھا۔ انہوں نے شعر کہنا اس وقت شروع کیا تھا جب وہ ڈھاکہ میں زیر تعلیم تھے اور ان کی عمر به مشکل چودہ یا پندرہ سال تھی ۔ چنانچہ ان کے شعری مزاج کی تربیت میں بنگال کی سحرآ فریں فضا کا زبردست ہاتھ رہا ہے۔ٹیگور اور اور نذرل کا تہذیبی پس منظر بھی ڈھاکہ میں قیام کے دوران ان کی شاعری کا محرک بنا۔ اپنے شعری محرکات و اکتسابات بارے میں انھوں نے اپنی خود نوشت ورود مسعود میں تفصیل سے لکھا ہے ۔ مسعود حسین خاں کا مضمون ' میرا شعری تجربہ ان کے نظریہ شعر کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ مسعود صاحب ابتدا میں گیت نگاری کی جانب مائل ہوئے تھے ۔ ان کے گیتوں کامجموعہ دیوناگری رسم الخط میں روپ بنگال اور دوسرے گیت کے نام سے شائع ہوا ہے بہ قول مسعود حسین خاں یہ ٹھیٹ ہندوستانی گیت ہیں۔ ان کا اردو مجموعہ کلام دو نیم پہلی بار 1966ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد اس مجموعے کے دو اور ایڈیشن نکلے جن میں کچھ اضافے بھی کیے گئے ۔ شعر مسعود صاحب کے لیے ہمیشہ ذریعہ نجات رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ شعر مکمل اظہار ذات کا وسیلہ ہونا چاہیے۔ اگر اس اظہار ذات کے ساتھ کوئی انداز اگر بر آمد ہوتا ہے تو فبھا نہیں تو کوئی ضرورت نہیں کہ کسی فکر کو آلہ شعر بنایا جائے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسعود حسین خان کو شاعر کی حیثیت سےوہ شہرت نہ مل کی جو انہیں ایک محقق اور ماہر لسانیات کی حیثیت سے حاصل ہوئی۔ اس کی دو وجہیں بیان کی جاسکتی ہیں۔ اول یہ کہ مسعود صاحب نے بہت کم کہا ہے۔ ان کا شعری سرمایہ صرف دو نیم پر مشتمل ہے جو ایک مختصر سا مجموعہ کلام ہے۔ انھوں نے 1950 ء کے بعد سے شعر کہنا اگر چہ بند نہیں کیا تھا، لیکن کم ضرور کر دیا تھا۔ ان کی شاعری کی عمر صرف ہیس بائیس سال ہی قرار دی جاسکتی ہے۔ دوم یہ کہ جس زمانے میں مسعود صاحب نے شاعری شروع کی تھی وہ دور ترقی پسند ادبی تحریک کا ابتدائی زمانہ تھا، لیکن انہوں نے اس تحریک کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ وہ خود فر ماتے ہیں ترقی پسند تحریک کی جانب میرا رویہ نوٹس نہ لینے کا رہا اس لیے کہ میں اس تحریک کے ماخذ اور مولد دونوں کی جانب اپنے لیے کشش نہیں رکھتا تھا۔ مجھے نہ تو مارکس کی فکر اور نہ اسٹالن کی آمریت متاثر کر سکی .. میرا انفرادیت پسند ذہن ہر قسم کی گروہ بندی سے متنفر رہا.اس لیے گروہ بندیوں نے میری شاعری کاکبھی نوٹس نہیں لیا. ایک اور علمی میدان جس سے مسعود حسین خان صاحب کو خصوصی دلچسپی رہی وہ اردو رسم الخط ہے جس کے مسائل پر انہوں نے علمی و سائنسی انداز سے غور کیا ہ وہ اردو کا رسم الخط بدلنے کے سخت مخالف تھے، لیکن وہ اردو رسم الخط اور اردو حروف تہجی میں اصلاح کے زبردست حمایتی تھے۔ ایک زمانے میں انھوں نے اردو حروف بھی میں سے سات حروف ، یعنی ذ ض ظ ط ث ص کو خارج کر دیے جانے کی وکالت کی تھی وہ ان حروف کو زائد حروف" کہتے تھے جو عربی سے لیے گئے یہی نہیں، بلکہ وہ انھیں مردہ لاش ، تصور کرتے تھے جسے اردو رسم الخط اٹھائے ہوئے ہے۔ اپنے ایک مضمون " اردو صوتیات کا خاکہ میں مسعود حسین خاں یوں رقم طراز ہیں :

Consonantsمصمتوں

کے سلسلے میں ان زائد حروف کا ذکر بھی ضروری ہے جو عربی سے لیے گئے ہیں اور جو ہمارے حروف تہجی اور نظام درس کے لیے پیر تسمہ یا (مجازا ) وہ جس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو بنے ہوئے ہیں، میری مراد: ذ ض ظ ط ص ث وغیرہ سے ہے۔ صوتی نقطہ نظر سے یہ سب مردہ لاشیں ہیں جسے اردو رسم الخط اٹھائے ہوئے ہے، صرف اس لیے کہ ہمارا لسانی رشتہ عربی سے ثابت رہے۔

مسعود حسین خان کے اس حقیقت پسندانہ نظریے کی اردو کے بعض حلقوں میں سخت رد عمل ہوا لیکن وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ اردو رسم الخط کو بدلنے یا اس کی جگہ پر کوئی اور رسم الخط اختیار کیے جانے کے سخت مخالف تھے۔انہوں نےواضح الفاظ میں کہا تھا کہ اردو رسم الخط کی ان مشکلات اور خامیوں کے باوجود اردو کے اس رسم الخط کا قائم رکھنا نا گزیر ہے۔بعض حلقوں کی جانب سے جب اردو کے لیے دیوناگری رسم الخط کی تجویز پیش کی گئی تو مسعود صاحب نے اس کا ڈٹ کرمقابلہ کیا اور کہا:

اردو کے لیے ہندی رسم الخط کی تجویز نہ صرف آئینی اعتبار سے خطر ناک ہے، بلکہ لسانی اعتبار سے بھی مہمل ہے۔ ہندوستان میں یہ رسم الخط اردو زبان کے لیے قدرتی فصیل کا حکم رکھتا ہے۔ اردو کا تصور اس کے بغیر ناممکن ہے۔

دکنیات بھی مسعود حسین خاں کا ایک پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ حیدر آباد (دکن) کے چھ سالہ قیام(1962..1968ء) کے دوران میں مسعود حسین خان نے دکنی زبان و ادب کے مطالعے میں خصوصی دلچسپی لی۔ مجلہ قدیم اردو کے اجراء سے لے کر دکنی متون کی تدوین ، دکنی لغت کی ترتیب اور محمد قلی قطب شاہ پر مونو گراف کی اشاعت تک مسعود صاحب کے لائق ستائش علمی کارنامے رہے ہیں ان کی اہل اردو نے بھر پور داد دی ہے۔دکنی اردو کی لغت1969ء) مسعود حسین خاں کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ یہ در اصل قدیم دکنی اردو کی لغت ہے، کیوں کہ اس کے تمام الفاظ دکنی متون کے مطبوعہ اور قلمی نسخوں سے حاصل کیے گئے ہیں ۔ ہر لفظ کے معنی دینے کے بعد اس کی مثال یا تو ۔ دکنی متن کے مطبوعہ نسخے سے پیش کی گئی ہے یا قلمی نسخے سے ۔ یہ کام مسعود صاحب کی ۔ برسوں کی محنت اور عرق ریزی کا نتیجہ ہے۔ دکنی اردو کی لغت کو یہ اختصاص حاصل ہے کہ یہ ایک غیر دکنی نے تیار کی ہے۔ اس میں الفاظ کی تعداد تقریبا سات ہزار ہے۔ اس کی تیاری میں ہارہ سال صرف ہوئے ۔ یہ آندھرا پردیش ساہتیہ اکیڈمی ، حیدر آباد سے 1969 ء میں شائع ہوئی ۔دکنیات کے سلسلے میں مسعود حسین خان کا دوسرا اہم کارنامہ دکنی متون پرت نامه (فیروز بیدری)، اور ابراہیم نامہ -عبدل دہلوی ) کی تدوین ہے۔ یہ کام -بھی انہوں نے حیدر آباد میں اپنے قیام کے دوران کیا۔ پرت نامه علمی و تحقیقی مجلہ قدیم اردو کی جلد اول میں 1965ء -میں شائع ہوا، اور ابراہیم نامہ کی اشاعت : قدیم اردو کی جلد سوم 1969 ء میں عمل -میں آئی۔ ان دونوں متون کو مسعود -صاحب نے سائنٹفک بنیادوں پر پر ایڈیٹ کرکے شائع کیا ہے، اور دونوں پر انھوں نے سیر حاصل اور وقیع مقدمات بھی لکھے ہیں جن میں نہ صرف مصنفین کے حالات بیان کیے گئے ، بلکہ متون کی زبان اور لسانی خصوصیات کا مبسوط جائزہ بھی پیش کہا گیا ہے۔ محمد قلی شاہ پر مسعود حسین کا مونوگراف بھی ان کی دکنیات سے گہری دلچسپی کا مظہر ہے۔ محمد قلی قطب شاہ گول کنڈہ کی قطب شاہی سلطنت کا پانچواں فرماں روا اور اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر تھا۔ وہ شہر حیدر آباد (آندھرا پردیش کا بانی بھی تھا۔ محمد قلی قطب شاہ پر مونوگراف مسعود صاحب نے ساہتیہ اکیڈمی (نئی دہلی ) کی فرمائش پر تحریر کیا تھا جو 1989 ء میں شائع ہوا ۔ اس مونوگراف میں مسعود صاحب نے گولکنڈہ کی تاریخی و تہذیبی پس منظر اور محمد قلی قطب شاہ کی تخت نشینی اور حکمرانی ، اور اس کی سیرت وشخصیت سے لے کر اس کی شاعری اور زبان تک کا نہایت دقت نظر کے ساتھ تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے، اور آخرمیں اس کے کلام کا انتخاب بھی دیا ہے۔ ہر چند یہ ایک مختصر سی کتاب ہے، لیکن محمد قلی قطب شاہ، اس کے عہد اور اس کی شاعری کو سمجھنے میں ہماری خاطر خواہ مدد کرتی ہے۔ اسے دکنیات میں ایک گراں قدر اضافہ تصور کرنا بے جا نہ ہو گا۔اردو زبان وادب کی تاریخ میں راقم السطور کو ایسی کوئی مثال نظر نہیں آتی جس میں ایک ہی شخص میں صفات کمالات مجتمع ہو گئے ہوں ، یعنی وہ بہ یک وقت وہ ادیب وانشاپرداز بھی ہو اور شاعربھی آغاز زبان اردو کا معتبر نظر یہ ساز بھی ہو اور محقق بھی ، اسلوبیاتی تنقید کا بنیاد گزار بھی ہو اور ادبی نقاد اور اقبال شناس بھی جس نے معیاری طرز پر تدوین متن کام بھی انجام دیا اور اور لغت بھی تیار کیا اور جو ماہر لسانیات وصوتیات ہی ہو اور ماہر دکنیات بھی ، جس نے ادبی صحافت کی بے گراں خدمات انجام دی ہو اور اردو تحریک کا فعال قلم کار بھی ہو، علاوہ ازیں جو ایک بہترین آپ بیتی نگار بھی ہو اور خاکہ نگار ہی۔ پروفیسر مسعود حسین خان بلا شبہ متذکرہ تمام صفات و کمالات سے متصف تھے۔ اردو زبان وادب کی تاریخ میں شائد ہی کوئی ان کا ہم سر یا ثانی ہو فراق گورکھپوری نے یہ مصرع خواہ کسی سیاق و سباق میں کہا ہو ، مسعود حسین خان پر پوری طرح صادق آتا ہے،

ع تیرا ثانی نہیں کوئی نہ کوئی تیری مثال

 


Monday, September 21, 2026

عابد علی خاں مدیر روزنامہ سیاست۔Abid Ali Khan Editor Siasat Daily

 

بچوں کے عابد علی خاں

محمد منور علی

سب ایڈیٹر روزنامہ سیاست



ہر دور میں بعض غیر معمولی شخصیتیں اپنی زندگی اور کارناموں کی ایسی چھاپ چھوڑ جاتی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہوتی ہے ۔ ان کا بچپن بھی مثالی ہوتا ہے ۔ عملی زندگی اور حسن سلوک دوسروں کے لیے رہبرور ہنما ہوتا ہے ۔ مضبوط ارادے ، اچھے مقاصد کی تکمیل کی صحت مند جستجو اور جدوجہد کا جائزہ لینے والوں میں ایک نیا حوصلہ جوش و ولولہ پیدا کرنے کی موجب بن جاتی ہے ۔

جناب عابد علی خاں ملک کے مایہ ناز سپوت ، وطن اور اہل وطن کے بے لوث خدمت گزار اور قابل احترام رہنما اور ایسے صحافی تھے جو نہ صرف اردو صحافت کے لیے باعث فخر تھے بلکہ ساری ہندستانی صحافت اُن پر ناز کرتی تھی۔ اردو صحافت کو نئی زندگی دینے میں انھوں نے بنیادی کردار ادا کیا اور اردو صحافت کو قومی صحافت کا ہم سفر بتاتے ہوئے اس کے مستقبل کو درخشاں بنایا ۔ جناب عابد علی خاں کی شخصیت پہلو دار تھی جس کا ایک منفرد اور نمایاں پہلو یہ تھا کہ ان کے چاہنے والوں اور قدر دانوں میں تمام مذاہب ، عقائد اور مسالک کے افراد

مختلف خیالات و نظریات کی حامل شخصیتوں میں یکساں طور پر مقبول و محترم رہے ۔ ہر ایک ان کو اپنا دوست، ہمدرد، بہی خواہ ، رہبر ورہنما تصور کرتا تھے اور ان کی مخلصانہ خدمات کا احترام کیا جاتا تھا ۔ وہ تمام زندگی اپنے ملک، ترقی پسندانہ انداز فکر ، معقولیت پسندی ، انسانی ہمدردی ، انسان دوستی ، اخوت بھائی چارہ کے اپنے نظریات پر ثابت قدم رہے۔ دوسروں کے نظریات اور خیالات سے اتفاق نہ کرنے کے باوجود کسی کا دل نہیں توڑا کرتے تھے ۔ اپنے انداز فکر کو دوٹوک انداز میں واضح کرنے سے پس و پیش نہیں کرتے تھے ، مخالفانہ نظریات کی عیب جوئی سے پر ہیز کیا کرتے تھے ۔ ان ہی اوصاف کے باعث ہر ایک ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ ملاقاتیوں کا یہ عام تاثر ہوتا تھا کہ عابد علی خاں سبھی کے دوست ہیں کسی کے دشمن نہیں۔

عابد علی خاں 19 مارچ 1920 ء کو حیدر آباد کے ایک معزز جاگیر دارانہ گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ جاگیردارانہ نظام ہی نظام دکن کے اقتدار کے تحفظ کا دوسرا نام تھا۔ والد نواب میر محمود علی خاں جامعہ عثمانیہ کے ابتدائی دور کے ممتاز عثمانین میں شمار کئے جاتے تھے ۔ دادا حافظ علی خاں انتخاب جنگ نظام ششم نواب میر محبوب علی خاں کے مدرسہ عالیہ میں ہم جماعت اور آصف سابع حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں کے استاد رہے ۔ نانا عابد علی خاں نواب صولت جنگ جن کا شمار اس دور کے ایسے . معززین میں ہوتا تھا جن کا شاہی خاندان سے قریبی ربط رہا ۔ جاگیردار گھرانوں کے ماحول اور اس کے بعض منفی پہلووں کو محسوس کرتے ہوئے نواب صولت جنگ کے مشورہ پر جناب محمود علی خاں نے اپنے تمام لڑکوں بشمول عابد علی خاں کو جاگیردار کالج کے تحتانوی شعبہ میں شریک کرنے کی بجائے مدرسہ عالیہ میں شریک کرایا جہاں منتخب و ماہر اساتذہ کی خدمات حاصل تھیں ۔ انگریزی زبان کی تعلیم پر خاص توجہ دی جاتی تھی ۔ امراء عظام کے طلبہ کو داخلہ دیا جاتا تھا ۔ گھر پر دینی تعلیم اور زبان اردو کی تعلیم پائی اور مدرسہ عالیہ میں انگلش میڈیم سے 1938 ء میں میٹرک کامیاب کیا ۔ مدرسہ عالیہ کے فارغ التحصیل عام طور پر ملحقہ نظام کالج میں جو انگلش میڈیم کی انٹر میڈیٹ اور جامعاتی تعلیم کا ادارہ تھا داخلہ لیا کرتے تھے ۔ عابد علی خاں نے اردو زبان سے اپنی جذباتی وابستگی کی بناء پر سارے ملک کی اولین اردو یونیورسٹی جامعہ عثمانیہ کا رخ کیا جہاں سے 1940 عیسوی میں (FA) فیلو آف آرٹس اور 1942 ء میں گریجویشن کی تکمیل کی ۔ فلسفہ بنیادی مضمون تھا ۔ خلیفہ عبدالحکیم ، پروفیسر شیو موہن لال ، ڈاکٹر ولی الدین جیسے عظیم دانشوروں کے آگے زانوے ادب

طے کرنے کا شرف حاصل ہوا ۔ جامعاتی تعلیم کے دوران عابد علی خان یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مقیم رہے ۔ جامعہ عثمانیہ کے ماحول ہی میں عابد علی خاں کی ذہنی ترقی کی منزلوں کے دھندلے خاکوں کی آبیاری ہوئی فکر و خیال کو پختگی ملی ۔ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ سارے ملک میں جدو جہد آزادی نقطہ عروج پر پہنچ چکی تھی اور دکن میں شاہی نظام کے خلاف تحریکات کا آغاز ہو چکا تھا ۔ ہاسٹل کی زندگی کے دوران ممتاز کمیونسٹ رہنما ، ترقی پسند شاعر مخدوم محی الدین سے قربت حاصل ہوئی اور اپنے فطری رجحان کے باعث ترقی پسند تحریک میں مخدوم کے ساتھ ہو گئے ۔ میر حسن، محبوب حسین جگر ، ہاشم علی اختر، اشفاق حسین اس زمانے میں ان کے قریبی رفقاء میں شمار کیے جاتے تھے۔ اس زمانے میں آرٹس کالج کی شاندار عمارت میں انقلابی شاعر مخدوم کے نغمے گونجا کرتے تھے ۔ اس ماحول نے عابد علی خاں کو امیری و غریبی کے فرق و اتار چڑھاؤ سے روشناس کرایا ۔ جامعہ عثمانیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مخدوم ہی کی سنگت اور صحبت میں ادب اور سیاست کی تحریکات سے پہلے نظری پھر عملی دلچسپی بڑھنے لگی۔ اس زمانے میں قاضی عبد الغفار صاحب کی ادارت میں روزنامہ پیام شائع ہوتا تھا ۔ حیدر آباد کا یہ واحد اخبار تھا جو سیاسی بیداری کا نقیب اور ترقی پسند جمہوری تحریک کاعلمبردار تھا۔ روزنامہ پیام اور قاضی عبد الغفار سے روابط کے علاوہ دانشوروں ، ادیبوں اور شاعروں کی سرگرمیوں سے ربط نے انقلاب کے تصور سے واقف کرایا ۔ 1943 ء میں جبکہ دوسری جنگ عظیم اپنے شباب پر تھی، آمریت پر جمہوری اتحاد کی طاقتوں کا غلبہ ظاہر ہونے لگا تھا اور دنیا بھر میں جواں سال نسل ترقی پسندی ، مساوات اور امن دوستی کی تحریکات سے وابستہ ہو رہی تھی۔ عابد علی خاں بھی مخدوم، سجاد ظہیر اور کیفی اعظمی جیسے ترقی پسند ادیبوں، دانشوروں کے قافلے میں شامل ہو گئے ۔ 1943 میں انہیں حیدر آباد کی انجمن ترقی پسند مصنفین کا سکریٹری مقرر کیا گیا ۔ ان ہی دنوں حیدر آباد میں ترقی پسند مصنفین کی پہلی عظیم الشان کل ہند کانفرنس منعقد ہوئی جو عابد علی خاں کی غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں کی اولین بہترین مثال ثابت ہوئی اور سارے ملک کے ترقی پسند ادیبوں، شاعروں، ماہرین تعلیم نے ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔ اسی کانفرنس کے دوران پہلا اجلاس جلسه یاد مولانا حالی منعقد کیا گیا جس میں بلبل ہند مسز سروجنی نائیڈو اور اس وقت کے صدر مجلس اتحاد المسلمین ابو احسن سید علی شریک ہوئے ۔ قاضی عبد الغفار اور ان کے دور کے مولوی عبدالحق نے بھی جو ایک دوسرے کے حریف تھے اس کانفرنس میں شرکت کی ۔ یہ اجتماع ضدین عابد علی خاں کا اایسا کارنامہ تھا جو مختلف خیالات کی شخصیتوں سے ان کے مساویانہ مراسم اور شفقت اور احترام کے خصوصی صفات کا مظہر ثابت ہوا ۔ 1946 میں ڈاکٹر محی الدین قادری زور نے حیدر آباد میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر اردو کانفرنس منعقد کی جس میں تقسیم سے پہلے کے ہندستان کے طول و عرض سے ادیبوں، شاعروں، دانشوروں نے شرکت کی۔ اسی پیمانہ کی شاندار کانفرنس شاید اس صدی میں کسی بھی مقام پر منعقد نہیں ہوئی ۔ ڈاکٹر زور نے عابد علی خاں کو ترقی پسند ادب کے اجلاس کا کنوینر مقرر کیا تھا۔ اس وقت سجاد ظہیر لندن میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس ہوئے تھے اور ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کے قافلہ سالار تھے ۔ انھوں نے حیدر آباد کے اس اجلاس میں شرکت کی۔ بر صغیر ہند کے سارے چوٹی کے ترقی پسند ادیب اور شاعر ایک بڑے پلیٹ فارم پر جمع ہوئے تھے ۔

عابد علی خاں نے 1947 ء تک انجمن ترقی پسند مصنفین کے سکریٹری کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے ۔ اشتراکیت کو انسانی دکھ درد کی نجات کے ایک نسخہ کے طور پر قبول کیا اور اس نظریہ پر ہمیشہ کاربند رہے لیکن کمیونسٹ پارٹی کی باقاعدہ رکنیت حاصل نہیں کی۔ وہ ابتداء ہی سے کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستگی سے گریز کرتے رہے ۔ ہر سیاسی جماعت اور اس سے وابستہ قائدین اور کارکنوں سے ان کے قریبی مراسم رہے ۔

ہر ایک انہیں اپنا ہم خیال تصور کرتا رہا لیکن انھوں نے کسی جماعت کی رکنیت کی پیشکش کو قبول نہیں کیا ۔ کسی جماعت کے رکن کی حیثیت سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی رکنیت کو بھی قبول کرنے سے اس بناء پر معذرت کا اظہار کیا کرتے تھے کہ وہ کسی بھی جماعت سے وابستگی کو گوارا نہیں کرتے ۔ تاہم ترقی پسند تحریکات میں حصہ لینے سے گریز نہیں کیا ۔ کمیونسٹ پارٹی کے باقاعدہ رکن نہیں تھے ۔ اس کے باوجود انھیں ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی کے ہٹا لئے جانے کے بعد بمبئی میں منعقدہ پہلی پارٹی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ وہ مخدوم کے ساتھ اس کانفرنس میں شریک ہوئے جہاں سجاد ظہیر اور دوسرے ترقی پسندوں سے قریبی روابط کے مواقع حاصل ہوئے ۔

گریجویشن کی تکمیل کے بعد والد صاحب کے اصرار پر نظام کی حکومت کے دور میں ایک محکمہ میں چھوٹے افسر کی حیثیت سے ملازمت قبول کی لیکن اپنے ذہنی رجحان کے باعث تخلیقی کام اور ایسا کام کرنا چاہتے تھے جو ملک و قوم کے لئے مفید ثابت ہو سکے ۔ ملازمت کے دوران بھی ترقی پسند تحریکات سے وابستہ شخصیتوں خاص طور پر مخدوم، میر حسن اور محبوب حسین جگر سے روابط برقرار تھے ۔ سر پھرے انقلابیوں سے دوستانہ مراسم شاہی کے اس دور میں گھر والوں کے لئے فکر و تشویش کا باعث بن گئے تھے ۔ والد صاحب کو بھی اس بات کا پتا چل گیا تھا کہ ان کا اٹھنا بیٹھنا ایسے لوگوں کے ساتھ ہے جو شخصی حکمرانی کے خاتمہ اور عوام کے جمہوری حقوق کی بحالی کے لئے جدوجہد پوشیدہ طور پر جاری رکھے ہوئے تھے ۔ گھر والوں اور دوست احباب کے نظریات میں تضاد اور ٹکراؤ کے درمیان دن رات گزار رہے تھے۔ دادا حضور انتخاب جنگ کے زمانے سے گھر کا سارا ماحول جاگیردارانہ رہا۔ ننھیال سے بھی یہی ماحول ورثہ میں ملا تھا ۔ نواب صولت جنگ کا شمار بھی اس زمانہ کی معزز ز شخصیتوں میں ہوتا تھا۔ گھر سے باہر نکلتے تو سارا وقت ایسی شخصیتوں کے درمیان گزرتا جو جا کردارانہ نظام سے نفرت کرتے تھے ۔ جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور مساوات کی باتیں ہی ہوتی تھیں۔

عابد علی خاں صاحب نے جاگیردارانہ ماحول کی بعض اچھائیوں کو اپنانے میں کوئی پس و پیش نہیں کیا جس سے انکے کردار میں ایسی خوبیاں پیدا ہوئیں جو عملی زندگی میں انتہائی فائدہ مند ثابت ہوئیں ، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے انتہائی شفقت کا برتاؤ، اعلی تہذیبی قدروں اور روایات کا پاس و لحاظ اسی جاگیردارانہ ماحول کی دین تھا۔ گھریلو مذہبی ماحول کے باعث دینی تعلیم پر خصوصی توجہ کے مواقع حاصل ہوئے ۔ مادہ پرستوں کے ماحول میں زیادہ تر وقت گزارنے کے باوجود دینی فرائض پر پوری طرح کاربند رہے اور آخر وقت تک روزانہ نماز کے بعد قرآن حکیم کے کم از کم ایک پارہ کی تلاوت اور تفسیر و ترجمہ کا مطالعہ ان کا معمول رہا ۔ تنہا اور افراد خاندان کے ساتھ دو مرتبہ حج بیت اللہ کا شرف حاصل کیا اور کئی مرتبہ عمرہ کیا۔

عابد علی خاں صاحب کے کردار کا یہ پہلو نئی نسل کے لیئے یقینا مشعل راہ ثابت ہوگا۔ وہ اپنے ماحول کی ہر اچھائی کو اپنانے میں کبھی پس و پیش نہیں کرتے تھے ۔ ان کے بعض کٹر مخالفین کی بھی کوئی بات انھیں پسند آتی تو اس کی تعریف اور ستائش کرنے سے ذرہ برابر بھی پس و پیش نہیں کیا کرتے تھے۔ غرور و تکبر سے ہمیشہ پر ہیز کیا کرتے تھے ۔ انہیں اپنی تعریف آپ بیان کرتے ہوئے بھی کسی نے نہیں سنا۔ دوسرے جب ان کے سامنے ان کی تعریف کے پل باندھنا شروع کرتے تو وہ اکثر و بیشتر بات چیت کا موضوع بدل دینے کی کوشش کرتےتھے ۔ انکساری ان کے کردار کی ایک نمایاں صفت تھی ۔ نام کی بجائے کام کو اہمیت دیا کرتے تھے ۔ تنقید کرنے والوں اور حاسدوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر کسی کی پروا کیے بغیر اپنا کام اور اپنا مشن جاری رکھنے کے اصول پر وہ ہمیشہ کار بند رہے اور دوسروں کو بھی اکثر و بیشتر یہی مشورہ دیا کرتے تھے کہ اعتراضات اور مخالفانہ پر ویگنڈہ کرنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنا کام خلوص، دیانت داری سے جاری رکھنا چاہیے ۔ دیانت داری اور راست بازی بھی رائیگاں نہیں جاتی ، دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کو وہ سخت ناپسند کرتے اگر کوئی ان کے سامنے دوسروں کی بد گوئی شروع کر دیتا تو بات چیت کا سلسلہ منقطع کرنے کی کوشش کرتے بلکہ اس محفل سے اٹھ کر چلے جاتے تھے ۔

عابد علی خاں صاحب کی ایک اور نمایاں صفت یہ تھی کہ وہ اپنا کام خود کرنا چاہیے ، کے اصول پر سختی سے کاربند رہے بلکہ اپنے رفقاء کو اکثر و بیشتر یہی مشورہ دیا کرتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے اپنا کام خود کرنا چاہیے جس سے کام مرضی کے مطابق انجام پا سکتا ہے اور دوسرے یہ ، اور دوسرے یہ کہ کام کی تکمیل پر تسکین قلب محسوس ہوتی ہے ۔ عابد علی خاں صاحب محنت شاقہ کے اس قدر عادی تھے کہ آخری عمر میں جب ڈاکٹرا نھیں کام کرنےسے منع کرتے اور مکمل آرام کا مشورہ دیتے تو بے حد اداس ہو جاتے ، مفوضہ فرائض اور روزمرہ معمول کے کاموں کو انجام دینے سے روکنے والوں پر برہم ہو جایا کرتے تھے ۔ جب علیل تھے عیادت کرنے آنے والوں کے سامنے یہی شکوہ کرتے کہ ڈاکٹر سدھیر نائک نے چند دنوں کے لیے دفتر جانے سے منع کیا ہے ۔۔ یہ بھی ان کی علالت کا ایک سبب ہے ۔ عابد علی خاں صاحب انتقال سے چند ہفتے قبل تک بھی دفتر سیاست میں روزانہ صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک مصروف رہتے ۔ درمیان میں پہنچ کے لیے گھر جاتے تو ایک گھنٹہ میں واپس ہو جاتے ۔ صبح کی اولین ساعتوں اور شام میں زیادہ تر وقت اخبارات اور رسائل کے مطالعہ میں صرف ہوتا ۔

عابد علی خاں اسپورٹس کے دلدادہ تھے لیکن بلیرڈ کے سوانے کسی دوسرے کھیل میں کوئی نمایاں حصہ نہیں لیا۔ کرکٹ سے غیر معمولی دلچسپی لیا کرتے تھے ۔ اہم کرکٹ میچں ہوتے تو چھوٹا سا ٹرانسسٹران کے ساتھ ہوتا ۔ حسب معمول مصروفیات کو جاری رکھتے ہوئے کرکٹ کا منٹری بھی سنتے رہتے تھے ۔ کھلاڑیوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے ۔ مشہور کرکٹ کھلاڑی اور سابق کپتان غلام احمد ہندستانی ٹیم ہم مکتب اور بے تکلف دوست تھے موجودہ کپتان محمد اظہر الدین نے جب اپنے کیریر کا آغاز شاندار پیمانہ پر کیا تو بے حد مسرور ہوئے ۔ حیدر آباد میں پہلی مرتبہ ان کی تہنیت کا اہتمام کیا۔

عابد علی خاں کی زندگی کے مختلف نمایاں پہلو ایسے ہیں جن کا جائزہ لینے سے دوسروں میں کام کرنے اور کچھ کر دکھانے کے جذبے کو تقویت حاصل ہوتی ہے ۔ ان کی ساری زندگی بنیادی طور پر تین اہم وابستگیوں کے گرد گھومتی ہے ۔ (1) اردو زبان کی بقاء ، حفاظت اور ترقی کے لیے جد و جہد ، (۲) اردو صحافت کو معیار عصری ترقی کے لحاظ سے قومی اخبارات کے ہم پلہ بنانے اور اخبار کو صحت مند روایات کا امین، اصلاح معاشرہ ، صحت مند رجحانات کی آبیاری کا وسیلہ بنانے کی دن رات کی مساعی (۳) حیدر آباد شہر اور اس کی مشترکہ تہذیب ، رواداری ، خلوص، مروت، مذہبی ولسانی ہم آہنگی کی روایات کو فروغ دینے کی خدمات ان کی ساری عملی زندگی کا محور رہیں ۔ عابد علی خاں صاحب نے محض اپنے والدین کے اطاعت گزار فرزند کی حیثیت سے بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سرکاری محکمہ میں ایک افسر کی خدمات مختصر عرصہ کے لئے انجام دیں جو ان کی محض روایتی زندگی کے چند سال ہی تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کی حقیقی عملی زندگی کا نقطہ آغاز اخبار سیاست کےاجراء سے ہوتا ہے جسے انھوں نے ایک مشن ایک چیلنج کے طور پر مقصد حیات بنایا اور اپنی راست بازی، نیک نیتی ، اپنے چند رفقاء خاص طور پر جناب محبوب حسین جگر کی بے لوث خدمات، مثالی دوستی اشتراک اپنی غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں اور عوام کے مختلف طبقات کے بھر پور تعاون کی بدولت وہ اپنے اس مشن میں ایسی حیرت انگیز کامیابی حاصل کر سکے جس کا گمان تک نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اخبار سیاست جس کا آغاز 6 صفحات پر مشتمل چند سو اخبارات کی فروخت سے ہوا تھا آج 10 تا 20 صفحات پر مشتمل روزانہ 50 ہزار کاپیوں کی اشاعت کا اخبار بن گیا ہے ۔ معیار اور عوامی مقبولیت کے اعتبار سے سارے ملک کے اردو اخبارات میں سر فہرست ہے اور لاکھوں تعداد اشاعت کے قومی اخبارات کے ہم پلہ تصور کیا جاتا ہے۔

عابد علی خاں صاحب نے 15 اگسٹ 1948 ء کو انتہائی ناسازگار حالات میں جب کہ شاہی کے خاتمہ کے ساتھ ہی سیاسی ، سماجی ، معاشی غرض عام زندگی کے ہر شعبہ میں زبر دست اور تیز رفتار تبدیلیاں ظاہر ہو رہی تھیں اس ماحول میں اردو بولنے والوں میں سخت مایوسی پھیل گئی تھی ۔ شخصی حکمرانی کے دور میں ساری ریاست میں صرف اردو ہی کا بول بالا تھا۔ عدالتوں ، سرکاری دفاتر میں اردو ہی رائج تھی۔ تحتانوی-سے اعلیٰ تعلیم تک اردو ہی ذریعہ تعلیم تھی کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے تمام کورسس بشمول میڈیسین ، سائنس ٹکنالوجی ، انجنیئرنگ کی تعلیم اردو میڈیم میں ہوا کرتی تھی ۔ ریاست حیدر آباد کے انڈین یونین میں انضمام کے ساتھ ہی اچانک ہر سطح پر انگریزی اور علاقائی زبان تلگو کا تیزی سے رواج عام ہو گیا تھا۔ اس ماحول میں اردو بولنے والوں میں مستقبل سے مایوسی کا رجحان شدت اختیار کرتا جا رہا تھا ۔ اردو بولنے والے خاص طور پر مسلم اقلیت حکومت وقت تک اپنے مسائل کے لئے نمائندگی کے وسیلے تلاش کرنے میں سرگرداں تھی ۔ ان کے مسائل کی ترجمانی کے لیے وہ کسی موثر وسیلہ کے ضرورت مند تھے ۔ ان ہی حالات نے عابد علی خان کو ایک اردو اخبار جاری کرنے پر مجبور کیا۔ اپنے نظریات اور فطری رجحان سے وہ امام صحافت قاضی عبد الغفار صاحب مدیر روزنامه پیام سے بے حد متاثر تھے اور ان ہی کے نظریات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے مقصد سے انھوں نے اخبار کی اشاعت کا بیڑہ اٹھایا۔ اور انتہائی چھوٹے پیمانے پر اس مشن کا آغاز کیا ۔ اپنی مشفق والدہ محترمہ سے ان کی دعائیں، نیک تمنائیں اور چند اشرفیاں اور ایک قیمتی ہیرا حاصل کیا جس کے چند ہزار روپے جمع ہو سکے ۔ اس وقت سونے کی قیمت بمشکل 50 روپے فی تولہ تھی ۔ اس محدود سرمایہ ، خدمت کے جذبہ اور عزم مصمم اور اپنے دیرینہ رفیق جناب محبوب حسین جگر کے بے لوث اور مخلصانہ تعاون کے ساتھ " اخبار سیاست کی بنیاد ڈالی ۔ عابد روڈ کے قریب ایک گلی میں افتادہ اراضی کرایہ پر حاصل کی۔ اس پر ٹین شیڈ کی عمارت کھڑی کی ۔ ایک پرانا لیتھو مشین خریدا اور دن رات ہمہ تن مصروف ہو گئے ۔ اس زمانے میں سنسنی خیز سرخیوں کے ساتھ شائع ہونے والے اخبارات زیادہ تعداد میں فروخت ہوا کرتے تھے ۔ سڑکوں اور گلی کوچوں میں گھومنے والے اخبار فروش سرخیوں کو یہ آواز بلند پکارتے ہوئے اخبار فروخت کیا کرتے تھے ۔ عابد علی خاں صاحب کو سنسنی خیزی، مبالغہ آمیزی ہرگز گوارا نہیں تھی ۔ وہ اپنے اخبارات کو صحت مند روایات کا ترجمان بنائے رکھنا چاہتے تھے ۔ غیر جانبداری ان کا نصب العین تھا۔ مبالغہ آمیزی سے گریز اور حقیقت حال کو جامع اور موثر انداز میں پیش کرنا ہی ان کی اور ان کے اخبار کی بنیادی پالیسی رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ اخبار سیاست کو توسیع اشاعت کے سلسلے میں ابتدائی ایک دہے تک انتہائی صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑا ۔

اس ماحول میں بھی وہ اپنے اصولوں پر سختی سے کاربند رہے اور آخر کار اخبار پڑھنے والوں کے رجحان میں صحت مند تبدیلی لانے میں کامیاب ہوئے ۔ اخبار کی توسیع اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا تو تکنیکی اور فنی تبدیلیوں پر توجہ دی، کتابت شدہ مواد کی پتھر پر چھاپ حاصل کر کے برقی مشین پر طباعت کے لیتھو کر ایک نظام کی بجائے فوٹو آفسیٹ کے طریقہ کار سے استفادہ کیا گیا ۔ مواد اور تکنیک دونوں اعتبار سے معیار کو بہتر بنانے کی جستجو کے انتہائی حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوئے ۔ اخبار کی تعداد اشاعت میں غیر معمولی اضافہ کے ساتھ ساتھ اشتہارات کی آمدنی میں اضافہ نے مالیاتی استحکام عطا کیا ۔ روٹری آفسیٹ مشینوں کی تنصیب سے چھپائی زیادہ آسان اور تیزرفتار ہو گئی جس سے سیاست میں رات دیر گئے تک کی خبروں کی اشاعت ممکن ہو سکی۔ اضلاع کی توسیع اشاعت کے اقدامات کیے گئے ۔ آج ادارہ سیاست ساری عصری سہولتوں سے لیس ہے ۔ ایک دہے قبل تک سارا اخبار ہاتھ سے لکھا جاتا تھا لیکن اب کمپیوٹرس کی مدد سے یہ کام انجام دیا جاتا ہے ۔ کمپیوٹر آپر یٹرس ٹائپ رائٹر کی طرح کے ایک مشین پر ساری خبریں اور مضامین وغیرہ ٹائپ کر دیتے ہیں اور کمپیوٹرس اس ذخیرہ کو حسب ضرورت سنگل کالم، ڈبل کالم، جلی اور خفی حروف میں تبدیل کر کے اس کا پرنٹ آوٹ دیتے ہیں ۔ اس طرح طباعت زیادہ آسان ہو گئی ۔ اخبار سیاست کی یہ نمایاں اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اسے ملک کے چوٹی کے ادیبوں ، صحیفہ نگاروں کا قلمی تعاون داشتراک حاصل ہے ۔ جناب عابد علی خاں صاحب نے ان ممتاز شخصیتوں سے اپنے شخصی روابط کی بنیاد پر ان کا تعاون حاصل کیا ۔ جن کا علمی تعاون برسوں سے جاری ہے ۔ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی میں بھی سیاست نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ عابد علی خاں صاحب نئے لکھنے والوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ان کی ابتدائی تحریروں کی بھی اشاعت کے مواقع مہیا کرتے تھے جس سے انھیں ایک نیا حوصلہ ملتا ۔ آج کے کئی چوٹی کے ادیب ، شاعر اور فن کار اس بات کا اعتراف کرتے ہیں ان کی ترقی عابد علی خاں صاحب کی حوصلہ افزائی کی دین ہے ۔ اخبار سیاست آج عوام کی ایک با اثر آواز بن گیا ہے ۔ عوام کے تمام طبقات اپنے مسائل کو متعلقہ حکام کے علم میں لانے کے لئے " اخبار سیاست کو ایک موثر وسیلہ تصور کرتے ہیں اور حکام بھی اس لیے فوری توجہ مرکوز کرتے ہیں کہ ”سیاست“ حقائق کا تر جمان ہے ۔

عابد علی خاں صاحب نے اردو زبان اور اس کی اعلی اقدار کی حفاظت، معاشی فوائد کی برقراری کے لیے اخبار سیاست کو ایک بڑا ذریعہ بنانے کے علاوہ خود شخصی طور پر عملی جدو جہد میں نمایاں حصہ لیا ۔ اس مقصد سے کئی ادارے قائم کیے اور ان ہی کے نصب العین پر عمل پیرا دوسروں کے اداروں سےبھر پور تعاون کیا۔ وہ اردو سے نہ صرف زبان بلکہ ایک تہذیب کے علمبردار کی حیثیت سے والہانہ وابستگی رکھتے تھے ۔ اپنے ایک مضمون میں اردو کے تعلق سے اپنا تاثر اس طرح بیان کیا ہے اردو سے میری والہانہ محبت کو آپ میری مادری زبان ہونے کا سبب قرار دے لیں لیکن میں نے ایسا محسوس کیا ہے کہ یہی وہ زبان ہے جس نے ہمارے ملک میں مختلف تہذیبوں کو ملانے اور ان قدروں کو مضبوط بنانے کے عمل میں تیزی پیدا کی اور جس میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ وقت کے تقاضوں کو بڑی آسانی سے قبول کر سکتی ہے ۔ اسی لئے میں اس زبان کی نشو و نما اور اس کی ترقی کی ہر تحریک سے دلچسپی رکھتا ہوں۔

عابد علی خاں صاحب نے مرکزی انجمن ترقی اردو ہند کے نائب صدر، انجمن ترقی اردو آندھرا پردیش کے شریک معتمد اور آندھرا پردیش اردو اکیڈیمی کی پہلی عاملہ کے اگزیکیٹیو چیر مین ، ادارہ ادبیات اردو کے رکن عاملہ اور بعض ازاں سرپرست کی حیثیت سے اردو تحریکات میں نمایاں حصہ لیا۔ انجمن ترقی اردو کے اردو ہال کی تعمیر کے لئے وسائل جمع کرنے میں نمایاں حصہ لیا اور جواہر لال نہرو کو معائنہ کی زحمت دی ، مرکزی اور ریاستی سطح پر اردو کے بیشتر مسائل کے سلسلے میں نمائندگیاں کیں ۔ عابد علی خاں صاحب نے جو اپنی ذات میں ایک انجمن تھےبعض ایسے ادارے قائم کیے جن کی بدولت اردو زبان کی بقاء کی و استحکام حاصل ہوا ۔ اردو تعلیم کو عام کرنے کے جدو جہد کو استحکام . مقصد سے پرائمری سے ثانوی درجوں تک کی تعلیم کے لیے ماڈل اسکول اور کوچنگ سنٹرس قائم کیئے ۔ اردو بولنے والے طلباو کے لیے جو میڈیسن اور انجینیرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں قیمتی کتابوں کا بک بینک قائم کیا۔ ابتدائی اردو میڈیم نصابی تعلیم کے لئے 3 لاکھ 50 ہزار روپے کا تعلیمی ٹرسٹ بنایا ۔ عابد علی خاں صاحب کا ایک شاندار کارنامہ 1966 میں ادبی ٹرسٹ کا قیام ہے جس کے مقاصد میں مستحق اردو ادیبوں اور شاعروں کی مالی اعانت کرنا اور ان کی تخلیقات کی اشاعت میں مدد دینا ہے ۔ اس ٹرسٹ کے لئے سرمایہ جمع کرنے کے مقصد سے انھوں نے بڑی کامیاب حکمت عملی اختیار کی ۔ ادبی ٹرسٹ کے لئے سرمایہ جمع کرنے کے ساتھ ساتھ اردو والوں کو جمع کرنے ان میں اردو ادب کے ذوق کو فروغ دینے کے علاوہ دوسروں پر اردو زبان کی طاقت اور غیر معمولی کشش کے اعتراف پر مجبور کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لئے ہر سال با قاعدگی کے ساتھ کل ہند اور انڈوپاک مشاعروں کا اہتمام کیا گیا جنھیں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ شمال میں جس طرح شنکر شاد مشاعرہ کو نمایاں مقام حاصل ہے اسی طرح ادبی ٹرسٹ کے مشاعرے باعث فخر ثابت ہوئے ۔ ادبی ٹرسٹ کے مشاعروں کی یہ انفرادی خصوصیت رہی ہے کہ لوگ ٹکٹ خرید کر جوق در جوق ان مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں اور سر کردہ تجارتی کمپنیاں اپنی تشہیر کے لئے ان مشاعروں کو اپنا وسیلہ بنانے کے لئے لاکھوں روپے سے تعاون کرتی ہیں ۔ آج 27 سال سے ادبی ٹرسٹ کا مشاعرہ سالانہ معمول اور ایک تہذیبی جشن کا مقام حاصل کر چکا ہے اور کار پس فنڈ 5 لاکھ 10 ہزار روپے کا ہو گیا ہے جس سے اردو زبان وادب کی ترویج و ترقی اور ادیبوں اور شاعروں کی اعانت کی ضروریات کی تکمیل کی جاتی ہے ۔ ان ہی مشاعروں کی آمدنی سے پرانا شہر حیدر آباد کے گنجان علاقہ میں اردو گھر تعمیر کیا گیا ہے اس دو منزلہ عمارت میں اردو والوں ہے۔ کے اجتماعات مثالی ثابت ہوتے ہیں۔ عابد علی خاں صاحب کو مادر علمیہ جامعہ عثمانیہ سے والہانہ عقیدت تھی خاص طور پر جامعہ کے اس دور کو جو کہ سماجی اور تہذیبی اعتبار سے دور زریں کہلاتا تھا وہ غیر معمولی دلچسپی رکھتے تھے اور اس دور کی جھلکیوں کو پیش کرنے کے مقصد سے یونیورسٹی کیمپس کی ایک شاندار عمارت کے گوشہ میں ویژن آف عثمانیہ قائم کیا جس کا افتتاح موجودہ صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر شنکر دیال شرمانے جبکہ وہ ریاستی گورنر تھے فرمایا تھا ۔ جناب عابد علی خاں کی یہ خوبی تھی کہ وہ ہرمسلک اور ہر مکتب خیال کی شخصیتوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے ۔ آندھرا پردیش میں جب " تلگو زبان کو زندگی کے ہر شعبہ میں رائج کرنے کے عزائم سے اقتدار حاصل کرنے والے تلگو فلمسٹار مسٹر این ٹی را ما راؤ بر سراقتدار تھے عابد علی خاں نے انھیں اردو اجتماعات میں شرکت پر رضا مند کیا ۔ ادبی ٹرسٹ کے ایک مشاعرہ میں انھوں نے اقبال کے ترانہ کے بعض اشعار سنا کر اردو زبان کی شیرینی کے اعتراف کا ثبوت دیا ۔ حیدر آباد میں جب اقبال صدی تقاریب منعقد کی جارہی تھیں عابد علی خاں صاحب کی نمائندگی پر مسٹر این ٹی را ما راؤ نے " اقبال مینار کی یادگار کے قیام سے اتفاق کیا۔ گجرال کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے عابد علی خاں صاحب نے اردو زبان کے استعمال اور تعلیم کے سلسلے میں دستوری اور قانونی تحفظات کے حصول کی جدوجہد میں نمایاں حصہ لیا۔

اردو زبان سے وابستہ تہذیبی روایات کو فروغ دینے میں عابد علی خاں صاحب نے ہمیشہ نمایاں دلچسپی لی ۔ مشاعروں کے انعقاد کے علاوہ غزل کے پروگراموں کے اہتمام میں ہمیشہ تعاون کرتے رہے ۔ حیدر آباد کی قدیم گنگا جمنی تہذیب کی وایات سے نئی نسل کو روشناس کرنے کا بڑا شدید جذبہ رکھتے تھے ۔ قطب شاہی دور کی تہذیب کی عکاسی کے لئے گنبدان قطب شاہی پر منعقد ہونے والے جشن کے انتظامات میں نمایاں حصہ لیتے رہے ۔ حیدر آباد کے 400 سال کے جشن کے بڑے پیمانے پر انعقاد کے لئے حکومت آندھرا پردیش نے تعاون کی خواہش کی تو بڑے جوش و خروش کے ساتھ آمادہ ہو گئے لیکن مختلف اسباب کی بناء پر اس جشن کی تواریخ کے التواء کا اعلان کیا جاتا رہا لیکن اپنی دھن کے پکے عابد علی خاں نے حکومت کی سرپرستی اور تعاون کے بغیر ہی جشن حیدر آباد کی ایک مقررہ تاریخ کو چار مینار کے دامن میں آصف جاہی دور کی ایک تہذیبی جھلک پیش کر دی ۔ نواب میر محبوب علی خان آصف جاہ ششم کے دور کے ایک یادگار مشاعرہ کی تمثیل کا اہتمام کیا۔ مہاراجہ سرکشن پر شاد بہادر نے اس یادگار مشاعرہ کا اہتمام

کیا تھا جس میں سارے ملک کے چوٹی کے شعراء نے جن کاشمار آج بھی اساتذہ سخن میں ہوتا ہے شرکت کی تھی ۔ فائن آرٹس اکیڈیمی کے فنکاروں کی مدد اور ممتاز ڈراما نگار مسٹر غلام جیلانی صاحب کے تعاون سے یہ تمثیلی مشاعرہ منعقد کیا گیا جو تاریخی یادگار ثابت ہوا ۔ بھاگ متی کے مقبرہ کے تحفظ کی جانب

آثار قدیمہ کے محکمہ کو متوجہ کیا تا کہ اس تاریخی شخصیت کی یادگار

کا تحفظ ہو سکے ۔ عابد علی خاں صاحب نے اردو کی ترویج و ترقی کے

سلسلے میں تلگو ادیبوں، دانشوروں کا تعاون و اشتراک بھی حاصل کیا وہ تلگو کی ترقی کے بھی دل سے خواہاں تھے کیوں کہ یہ ریاست کی سرکاری زبان ہے اور اس کا روزی روٹی سے گہرا تعلق ہے ۔

تلگو کانفرنس کے موقع پر عابد علی خاں صاحب کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا سنمانم کیا گیا تھا ۔ حیدر آباد کی دیگر لسانی اقلیتوں میں بھی عابد علی خاں صاحب کا مقام اور قدرو منزلت رہی ۔ مرہٹی ساہتیہ پریشد کے اجتماعات میں انھیں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا جاتا رہا ۔ ہندی پر چار سمجھا کے اجتماعات میں انھیں توجہ سے سنا جاتا تھا۔

عابد علی خاں صاحب کا شمارا نجمن ترقی پسند مصنفین کے بانیان میں ہوتا ہے ۔ سیاست کی ادارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل انھوں نے چند کتابیں لکھیں اور ترجمے کیے ۔ اپریل 1943 ء میں پہلی تصنیف " جمہوریہ چین، شائع ہوئی ۔ اسی سال کارل مارکس کی کتاب کا اردو ترجمہ " اجرتی محنت اور سرمایہ » کے نام سے شائع ہوئی ۔ 1944 ء میں کتاب مشاہیر چین شائع ہوئی۔

عابد علی خاں صاحب نے کئی بیرونی ممالک کے دورے کیے ۔ انہیں سوویت یونین کی کمیونسٹ حکومت نے دورہ کی دعوت دی، امریکہ کے نظم و نسق نے بھی انہیں خصوصی طور پر مدعو کیا۔ اس کے علاوہ برطانیہ ، یوروپ کے کئی ممالک، مشرق وسطیٰ کے تقریبا تمام ممالک کا دورہ کیا ۔ 1962 ء میں فن لینڈ میں نوجوانوں کے عالمی میلہ میں شرکت کی ۔ 1973ء میں نائب صدر جمہوریہ ہند مسٹر جی ایس پاٹھک کے ساتھ افغانستان کا دورہ کیا ۔ 1975 ء میں صدر جمہوریہ ہند فخرالدین علی احمد صاحب کے ساتھ نیلگری اور یوگو سلاویہ کا دورہ کیا اسی سال انڈو سوریٹ کلچرل سوسائٹی کی سلور جوبلی تقاریب منعقدہ میں وزیر اعظم شریمتی اندرا گاندھی ماسکو میں شرکت 1985 اندرا گاندھی کے ہمراہ مصر، فرانس، الجیریا ، امریکہ اور سوئٹزر لینڈ کا دورہ کیا ۔ 1988 ء میں وزیر اعظم مسٹر راجیو گاندھی کے دورہ اردن ، یوگوسلاویہ ، اسپین ، ترکی میں ان کے ہمسفر رہے ۔ 1992 ء میں جدہ میں جشن حیدر آباد تقاریب کی صدارت کی۔ اسی مقصد سے کویت اور برطانیہ کا بھی دورہ کیا۔

عابد علی خاں صاحب کو قومی اور ریاستی سطح کے کئی اعزازات سے نوازا گیا اور کئی غیر سرکاری فلاحی اداروں نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایوارڈ عطا کیئے ۔ آندھرا پردیش اوپن یونیورسٹی نے اپریل 1988 ء میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی ۔ حکومت ہند نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے 1981 ء میں پدم شری کا اعزاز عطا کیا - 1984 میں ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر دہلی میں منعقدہ

تقریب میں شریمتی اندرا گاندھی نے غالب ایوارڈ عطا کیا ۔ بنگلور کے ایک تعلیمی اور فلاحی خدمات انجام دینے والے ادارہ الامین نے عابد علی خاں صاحب کو اپنا اعلم ترین اعزاز عطا کیا۔

اوپن یونیورسٹی نے ڈاکٹر آف لیٹرس کی ڈگری کے ساتھ توصیف نامہ میں خراج تحسین پیش کیا " ممتاز صحیفہ نگار ، دانشور، ادیب، ماہر تعلیم ، بلند پایہ ، سماجی خدمت کے نگذار شری عابد علی خاں مینارہ نور ثابت ہوئے ہیں ملک کے اردو بولنے والوں کے اتحادر فیق و دم ساز اور مفکر تصور کیئے جاتے تھے ۔ صحافت کے میدان میں بیش بہا خدمات نے انہیں اعلا مرتبہ اور بلند مقام عطا کیا ہے ۔

الامین ایجوکیشنل سوسائٹی بنگلور نے آل انڈیا کمیونٹی لیڈر شپ ایوارڈ 1988 و عطا کرتے ہوئے اپنے سپاس نامہ میں لکھا ہے ۔ اللہ تعالی کا ہم پر بے پایاں احسان ہے کہ امت مسلمہ میں ایسے افراد بھی ابھر نے لگے ہیں جن کا وجود نہ صرف امت مسلمہ کے لیے بلکہ ساری انسانیت کے لیے مفید اور قابل فخر ہے ۔ ان افراد میں عالی جناب عابد علی خاں صاحب بھی شامل ہیں جن کی خدا داد قابلیت اور صلاحیتوں نے انھیں ایک امتیازی مقام عطا کیا ہے ۔ آپ ایک ممتاز صحیفہ نگار ، دانشور ، ادیب، ماہر تعلیم ، بلند پایہ سماجی خدمت گزار ہیں۔جناب عابد علی خان جیسی فعال شخصیت کی مثال مشکل ہی سے مل سکتی ہے وہ تا دم آخر ذہنی اور جسمانی لحاظ سے معروف رہے محض خدمت کے والہانہ جذبے نے انہیں سماج میں وہ مرتبہ عطا کیا وہ قابل احترام مقام حاصل ہوا جو محض اللہ تعالی کی دین ہی ہو سکتی ہے ۔ ان کی فلاحی خدمات بھی مثالی رہیں۔ مستحق افراد کی مدد و اعانت وہ اس انداز میں کیا کرتے تھے کہ کسی دوسرے شخص کو اس کا پتا نہیں چلتا تھا ۔ ان کے سانحہ ارتحال کے بعد ہی اہل خاندان اور دوسروں کو اندازہ ہوا کہ وہ کس کس کی مالی امداد کیا کرتے تھے۔ ان کی مدد سے استفادہ کرنے والوں نے بھی اس لیے اس بات کو راز میں رکھا تھا کہ وہ جب دیتے تو تاکید کیا کرتے تھے کہ اس کا چرچا نہ کیا جائے ۔ اکثر فلاحی خدمات کے معاملے میں وہ پس پردہ رہ کر کام کرنے کے عادی تھے ۔ غریب لڑکیوں کی شادیوں کے لیے امداد طلب کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ پر فکر مند ہو گئے تھے ۔ بعض نوجوانوں کو طلب کر کے ایک باقاعدہ تحریک شروع کرنے کا مشورہ دیا ۔ اس کے ساتھ ہی غریب اور نادار لڑکیوں کی اجتماعی شادیوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اس تحریک کو اس قدر تقویت اور فروغ حاصل ہوا کہ آج بھی شہر اور اضلاع میں اس کا سلسلہ جاری ہے ۔ عوام کو ان پر اس قدر اعتماد تھا کہ اکثر و بیشتر بیرونیممالک میں مقیم حضرات اور شہر کے متمول افراد صرف امداد کے لیے کچھ رقم عابد علی خاں صاحب کے حوالے کر دیتے اور اس سے کس طرح غریبوں کی مدد کی جائے اس کا فیصلہ ان پر چھوڑ دیا کرتے تھے ۔ کئی افراد ہزا رہا روپے فلاحی کاموں کے لیے خاموش طریقے پر ان کے حوالے کر دیا کرتے تھے ۔

عابد علی خان جو اردو صحافت کے آفتاب تھے 12 نومبر 1992 کو طلوع آفتاب سے قبل جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ یہ اطلاع نہ صرف شہر کے گوشہ میں آگ کی طرح پھیل گئی اور صبح کی خبروں کے ٹیلی کاسٹ میں دور درشن نے یہ اندوہناک اطلاع دی تو ملک کے گوشہ گوشہ سے ٹیلی فونس پر استفسار کالا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا ۔ مکان اور دفتر کے تمام ٹیلی فون مسلسل بجتے رہے ۔ جلوس جنازہ میں بلا لحاظ مذہب و ملت ہزار ہا افراد شریک ہوئے ۔ لحد کو مٹی دینے والوں میں ریاستی گورنر جناب کرشنا کانت شامل تھے جنھوں نے با دیدہ نم اپنے رفیق کو جن سے اکثر و بیشتر مشورہ اور رہنمائی حاصل کرتے تھے رخصت کیا۔

عابد علی خاں کی زندگی کی طرح ان کی موت بھی مثالی ثابت ہوئی ۔ انھوں نے اپنی وصیت میں تاکید کی کہ ان کی یاد میں نہ تو کوئی تعریتی جلسہ منعقد کیا جائے اور نہ اخبارات میں تعزیتی پیامات شائع کئے جائیں۔ سیاست میں ان کے بارے میں کوئی اداریہ نہ لکھا جائے یا تصویر شائع کی جائے محض عام افراد کی طرح چند سطور میں انتقال کی خبر شائع کر دی جائے ۔ فاتحہ سیوم کے بعد کوئی رسمی تقریب کا اہتمام نہ کیا جائے ۔ چہلم وغیرہ کی ضیافت پر عام طور پر جو رقم صرف کی جاتی ہے اس قدر رقم سے کسی مستحق لڑکی کی شادی پر خرچ کی جائے ۔ انھوں نے لکھا کہ وہ صرف دعائے مغفرت کے طلب گار رہیں گے ۔۔

عابد علی خاں کی رحلت کے بعد جناب محبوب حسین جگر جائنٹ ایڈیٹر اور جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست کے نام ملک اور بیرون ملک سے تعریقی پیامات کالا متناہی سلسلہ شروع ہوا۔

ان کی غیر معمولی مقبولیت کا ثبوت ہے ۔ ہر ایک نے اسے اپنا شخصی اور قومی نقصان تصور کیا ۔ صدر جمہوریہ ہند ، وزیر اعظم اور کئی وزراء نے بھی اظہار تعزیت کیا ۔ مسٹر نرسمہاراؤعابد علی خاں صاحب کے انتقال کے بعد جب پہلی مرتبہ حیدرآباد کے دورہ پر آئے تو طیران گاہ سے راست لکڑی کا پل پر واقع عابد منزل پہنچے ۔ محترمہ بیگم عابد علی خاں، مسٹر زاہد علی خ علی خاں ، ڈاکٹر شاہد علی خاں اور دوسرے ارکان خاندان کو پرسہ دیا اور اپنی دیرینہ رفاقت کے تذکرے کرتے ہوئے عابد علی خان کی جدائی کو ایک شخصی نقصان قرار دیا ۔مضامین اور تعزیتی بیانات میں مختلف شخصیتوں نے عابد علی خان کی پہلو دار شخصیت کے مختلف نمایاں پہلووں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔

حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی نے لکھا " عابد علی خاں 43 سال تک نور بکھیرتے رہے ۔ دو ربکھیرتے رہے ۔ دکھی انسانوں اور انسانیت کی ۔ مدد کرتے رہے ۔ اردو معاشرہ کو ذمہ دار بنانے کا کام کیا ۔

ممتاز ترقی پسند ادیب اور شاعر علی سردار جعفری نے عابد علی خان مرحوم کے بارے میں لکھا کہ وہ حیدر آباد کی تہذیب اور شایستگی کا مکمل پیکر تھے ان کی خوش اخلاقی کے ڈھانچہ میں ڈھلی ہوئی شخصیت میں ایک آہنی کردار کا انسان پوشیدہ تھا جس کی جھلک ان کی آنکھوں میں نظر آتی تھی ۔ پر آشوب دور میں سیاست کا اجراء اور پھر اس کی سر بلندی ایک مرد مجاہد کے عزم و ہمت کی داستان ہے ۔ عابد علی خاں سے مل کر یہ احساس ہوتا تھا کہ وہ انسان کے پیکر میں ایک تاج محل ہیں ۔ خدا مرحوم کو غریق رحمت کرے۔ پروفیسر گیان چند نے لکھا ” عابد علی خاں جیسی شخصیتیں جن سانچوں سے بن کر نکلتی تھیں وہ سانچے اب ٹوٹ چکے ہیں۔ پروفیسر نثار احمد فاروقی نے انھیں " بیاباں کی شب تاریک میں تندیل رہبانی قرار دیا، ڈاکٹر گربچن سنگھ خالصہ نے لکھا عابد بھائی سے جب ملاقاتیں ہوتیں تو ایسا محسوس ہوتا کہ ایسے۳۲

نفوس اگر زیادہ دن زندہ رہیں تو دنیا سے برائی اور شہر کا خاتمہ ہو سکے گا خباثت کم ہوگی پیار و خلوص بڑھ جائے گا لیکن افسوس ایسا نہیں ہوسکا

جناب عابد علی خاں مرحوم کی حیات اور کارناموں کے مختلف پہلووں پر عثمانیہ یونیورسٹی ، گلبرگہ یونیورسٹی اور دیگر ریسرچ اداروں میں اسکالرس نے پی ایچ۔ ڈی کے لیے ضخیم مقالے تحریر کیئے ہیں ۔ اس عظیم شخصیت کے بے شمار اوصاف حمیدہ کو بیان کرنے کے لئے اس کتابچہ کے صفحات قطعی ناکافی ہیں اور راقم الحروف کی ادنی صلاحیتیں یہ حق ادا کرنے سے قاصر ہیں تاہم ان کے کردار اور طریقہ کار کے بعض پہلووں کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ نئی نسل کی رہنمائی ہو سکے ۔

عابد علی خاں کی زندگی کے مطالعہ سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ عزم عمل مصم ہوں، ارادے نیک ہوں، جذ بہ چپر خلوص محنت وجد وجہد کی لگن ہو تو کسی مقصد کا حصول نا ممکن نہیں۔ دعا ہے کہ خدا مر حوم کو غریق رحمت فرمائے ۔ آمین۔

عابد علی خان صاحب نے اپنی وصیت میں نمود و نمایش سختی سے منع کیا تھا سے کے لیے ان کی کوئی یادگار قائم کرنے سے البتہ وہ اپنی زندگی میں ان کے مشن کی تکمیل کے لیے جد و جہد کے تسلسل کو برقرار رکھنے پر اکثر و بیشتر زور دیا کرتے تھے ۔ انکا مشن تھا اردو کا فروغ خاص طور پر اردو تعلیم کی توسیع و ترقی کے لئے زبان کی بقاء اور اس کے مستقبل کا تحفظ ۔ عابد علی خان صاحب کی اسی آرزو کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے تمام ورثاء نے عابد علی خان ایجو لیشنل ٹرسٹ ابتداء میں صرف ارکان خاندان کے شخصی عطیوں کے ذریعہ قائم کیا اور پانچ لاکھ روپے کے کارپس سے سرگرمیوں کا آغاز کیا ۔ ٹرسٹ نے ابتداء میں تجربہ کے طور پر ایسے زیر زیر تعلیم بچوں کے لئے جو انگلش میڈیم میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اردو زبان پڑھانے لکھانے کا اہتمام کیا اور گرمائی تعطیلات کے دوران دونوں شہروں حیدر آباد میں کئی مقامات پر مراکز قائم کیسے اور ماہرین کے تعاون سے ایک ایسا آسان قاعدہ مرتب کر کے اسے طبع کرایا گیا جس کی مدد سے اردو حروف شناسی پر مختصر عرصہ میں عبور حاصل ہو جائے ۔ اس تجربہ کو ایسی غیر معمولی کامیابی ہوئی جس کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا ۔ ہزارہا طلبہ و طالبات ان مراکز سے رجوع ہوئے ۔ ان میں اردو مادری زبان کے طلبہ و طالبات کے علاوہ ایسے کئی افراد بھی شامل تھے جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے لیکن وہ اردو زبان کو سیکھنے کا جذبہ رکھتے تھے ۔ شہر میں 20 مراکز کے قیام کے ساتھ ہی ہر طرف سے ان مراکز کے قیام کا مطالبہ شروع ہوا اور چند ہفتوں میں یہ ایک تحریک بن گئی ۔ اس تجربہکے حوصلہ افزاء نتائج کے باعث ریاست کے مختلف اضلاع میں ایسے مراکز کے قیام کے لئے مطالبہ شروع ہو گیا ۔ بعض دوسری ریاستوں نے بھی اس تحریک کو اپنانے سے غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی ۔ دار الحکومت دہلی میں اردو اکیڈمی نے عابد علی خان ایجو کیشنل ٹرسٹ کی مرتبہ کتاب کی اشاعت کی اجازت حاصل کی اور دہلی میں مختلف مراکز پر اردو تعلیم کے مراکز قائم کیسے گئے ۔ بعض دوسری ریاستوں سے بھی اس قسم کے مراکز کے قیام کی تجاویز موصول ہورہی ہیں۔ جدہ ، ریاض اور کویت میں بھی ایسے مراکز قائم کیے جارہے ہیں۔

لائنس کلب آف حیدر آباد نے جناب عابد علی خاں صاحب کی عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے مقصد سے شہر حیدر آباد کے پسماندہ علاقہ میں آنکھوں کے علاج معالجہ اور آپریشنس کی عصری سہولتیں مہیا کرنے کے مقصد سے ایک سو بستروں کے آئی ہاسپٹل کے قیام کا بیڑہ اٹھایا۔ حکومت آندھرا پردیش نے شہر کے انتہائی موزوں مقام پر اس ہاسپٹل کے لئے ۵۰۰ اگر قیمتی اراضی سالانہ ایک روپیہ پٹہ پر مہیا کی۔

نظامی چیریٹیبل ٹرسٹ نے ابتداء میں ۲۵ لاکھ روپے کا عطیہ دیا ۔ چیف منسٹر مسٹر وجئے بھاسکر ریڈی نے اس ہاسپٹل کے سنگ بنیاد کی تنصیب کی رسم اجراء انجام دی ۔تعمیر کے آغاز کے لیے تیاریاں بھی شروع ہو چکی ہیں ۔ جناب عابد علی خاں کی سب سے بڑی یادگار " اخبار سیاست ہے جس نے بلاشبہ نہ صرف ہندستان بلکہ سارے بر صغیر میں اردو صحافت کی ایک تاریخ بنائی ہے ۔ اردو صحافت کے معیار کو باعث افتخار بتایا ہے ۔ آج جس کی مذاکرہ، سمینار یا محفل میں اردو صحافت کا تذکرہ کیا جاتا ہے جناب عابد علی خاں کی خدمات کو خراج پیش کیا جاتا ہے جنھوں نے اردو صحافت کو ایک نئی زندگی دی اور قومی صحافت میں ایک نمایاں مقام عطا کیا

جب تک اردو زبان باقی ہے عابد علی خاں کی یاد بھی باقی رہے گی۔

خدا مر حوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے۔ (آمین)